حدود و قصاص

مقتول کی دیت معاف کرنے کا اختیار کس کو ہے؟

فتوی نمبر :
77592
| تاریخ :
2024-08-22
عقوبات / حدود و سزا / حدود و قصاص

مقتول کی دیت معاف کرنے کا اختیار کس کو ہے؟

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ ! کیا فر ماتیں ہیں علما ء کر ام اس مسئلہ کہ با رے میں کہ ایک شخص کو نا حق قتل کیا جا تا ہے اور بعد میں اس صلح کے لیے دباو ڈالا جا رہا ہے کی ہما رے سا تھ صلح کی جا ئے ۔جبکہ مقتو ل کے ورثا ء میں سے والد ین حیا ت ہیں اور مقتو ل کے بھا ئی بہنیں بھی حیات ہیں ۔ اور مقتو ل شا دی شدہ تھے، اور مقتو ل کی ایک بیوہ اور تین نا با لغ بچے ہیں ۔ جن میں سے ایک لڑکا اور دو لڑکیا ں ہیں ۔کیا ورثا ء میں سے جو کہ والدین ہے معاف کر سکتے ہیں یا نہیں اور اگر معا ف کر سکتے ہیں تو کیا اپنا حق معا ف کر سکتے ہیں یا مکمل دیت ؟ ؟کیا نا حق قتل میں دیت لی جا سکتی ہے یا کہ قصاص ؟نا حق قتل میں دیت پر صلح کی جا سکتی ہے یا کہ مکمل دیت لینی پڑے گی۔نا حق قتل میں دیت کی مقدار کیا ہو گی؟ جبکہ مقتو ل کے بچے نا با لغ ہیں ۔ ازروشر عیت رہنما ئی فر ما ئیں ۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہوکہ کسی انسان کو ناحق قتل کرنا نہایت سنگین اور کبیرہ گناہ ہےجسے اللہ پاک نے قرآنِ کریم میں پوری انسانیت کے قتل کے مترادف اور بروزِ قیامت ابدی جہنم کی سزا کے ساتھ مقید کیا ہے ، جبکہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایاکہ ” اگر تمام روئے زمین اور آسمان کے لوگ کسی ایک مسلمان کے نا حق قتل میں شریک ہوں، تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن سب کو اوندھے منہ جہنم میں ڈال دے گا۔ لہذا کسی مسلمان کو ناحق قتل کرنا جہاں اللہ تعالیٰ کے حکم کی پامالی ہے وہیں مقتول کے لواحقین کو اذیت اور تکلیف پہنچانا بھی ہے جس پر شریعت مطہرنے بڑی سخت سزائیں مقرر کی ہیں، تاہم دنیوی اعتبار سے ان سزاؤں کو بلا عوض یا بالعوض دونوں صورتوں میں لواحقین کو معافی کا اختیار بھی دیا ہے ، چنانچہ اگر مقتول کے ورثاء میں سے کوئی ایک یا چند افراد قاتل کو معاف کردیں یا اس سے دیت لینے کا فیصلہ کرلیں تو اس صورت میں قاتل سے قصاص ساقط ہوجاتاہے۔ البتہ جن ورثاء نے معاف نہ کیا ہو ،ان کے لیے قاتل پر ان کے حصے کے مطابق دیت لازم ہوجاتی ہے، ان کے لیے قاتل سے قصاص کا مطالبہ کرنا درست نہیں ہوتا۔ لہذا صورتِ مسئولہ میں اگر مقتول کے والدین قاتل کو بغیر کسی معاوضے کے معاف کرنا چاہیں تو قاتل سے قصاص اور مقتول کے والدین کا دیت میں سے حصہ ساقط ہوجائے گا، جبکہ بیوہ اور بچوں کی دیت میں سے حصہ بدستور برقرار رہے گا ۔
جبکہ دیت کی مقدار یہ ہے کہ اگر دیت سونے کی صورت میں ادا کی جائے تو اس کی مقدار ایک ہزار ( 1000 ) دینار، یعنی 375 تولہ سونا جس کا اندازہ جدید پیمانے سے چار کلو 374 گرام سونا یا اس کی قیمت بنتی ہے، اور اگر دراہم (چاندی )کے اعتبار سے ادا کرنا ہو تو دس ہزار ( 10000 ) درہم یعنی 2625 تولہ چاندی جس کا اندازہ جدید پیمانہ سے 30 کلو 618 گرام چاندی یا اس کی قیمت بنتی ہے۔جبکہ فی تولہ چاندی کی قیمت مارکیٹ سے معلوم کر کے دیت کی رقم کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

‌‌کما فی الھندیۃ : للأب أن يصالح فيما دون النفس واختلفت الروايات في الصلح عن النفس كذا في فتاوى قاضي خان. وإذا اصطلح القاتل، وأولياء القتيل على مال سقط القصاص، ووجب المال قليلا كان، أو كثيرا، وإن لم يذكروا حالا، ولا مؤجلا فهو حال كذا في الهداية. ( إلی قولہ ) ومن عفا من ورثة المقتول عن القصاص رجل، أو امرأة، أو أم أو جدة، أو من سواهن من النساء، أو كان المقتول امرأة فعفا زوجها عن القاتل فلا سبيل إلى القصاص كذا في السراج الوهاج.إن صالح أحد الشركاء من نصيبه على عوض، أو عفا سقط حق الباقين عن القصاص وكان لهم نصيبهم من الدية، ولا يجب للعافي شيء من المال إلخ (الباب السادس في الصلح والعفو والشهادة فيه ج 6، ص20-21، ط دار الفکر بیروت )-
و فی البحر الرائق : فإن صالح أحد الأولياء من حظه على عوض أو عفا فلمن بقي حظه من الدية) ؛ لأن كل واحد منهم متمكن من التصرف في نصيبه استيفاء و إسقاطا بالعفو و بالصلح ؛ لأنه يتصرف في خالص حقه فينفذ عفوه و صلحه فسقط به حقه من القصاص .( ۸ / ۳۵۳ )۔
کما فی الھندیۃ : إن كان القتل خطأً ، فإن كان الشريك الكبير أباً كان له أن يستوفي جميع الدية حصة نفسه بحكم الملك وحصة الصغير بحكم الولاية، وإن كان الشريك الكبير أخاً أو عماً، ولم يكن وصياً للصغير يستوفي حصة نفسه، ولايستوفي حصة الصغير، كذا في المحيط اھ( كتاب الجنايات، الباب الثامن في الديات، 6 / 24، ط: دار الفكر بيروت )-
و فی رد المختار تحت (قوله: والصبي كالمعتوه) أي إذا قتل قريب الصبي فلأبيه ووصيه ما يكون لأبي المعتوه ووصيه فلأبيه القود والصلح لا العفو وللوصي الصلح فقط، وليس للأخ ونحوه شيء من ذلك إذ لا ولاية له عليه كما قررناه في المعتوه، وفي الهندية عن المحيط: أجمعوا على أن القصاص إذا كان كله للصغير ليس للأخ الكبير ولاية الاستيفاء، ويأتي تمامه قريباً. [تتمة] أفتى الحانوتي بصحة صلح وصي الصغير على أقل من قدر الدية إذا كان القاتل منكراً ولم يقدر الوصي على إثبات القتل قياساً على المال لما في العمادية من أن الوصي إذا صالح عن حق الميت أو عن حق الصغير على رجل، فإن كان مقراً بالمال أو عليه بينة أو قضي عليه به لايجوز الصلح على أقل من الحق، وإن لم يكن كذلك يجوز اھ(كتاب الجنايات، فصل فيما يوجب القود وما لا يوجبه، 6 / 539، ط: سعيد)-

واللہ تعالی اعلم بالصواب
بشیر احمد جمعہ عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 77592کی تصدیق کریں
2     614
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • زنا بالجبر میں ڈی این اے ٹیسٹ - DNA Test - کے ثبوت کی حیثیت

    یونیکوڈ   اسکین   حدود و قصاص 0
  • زنا بالجبر کی صورت میں گناہگار ہونے نہ ہونے کی تفصیل

    یونیکوڈ   حدود و قصاص 0
  • قتلِ عمد میں مکرِہ (مجبور کنندہ)پر قصاص کا حکم

    یونیکوڈ   حدود و قصاص 0
  • کیا حضورؐ سے بذات خود کسی مجرم کو قتل کرنا یا ہاتھ کاٹنا ثابت ہے؟

    یونیکوڈ   حدود و قصاص 0
  • کیا حدود آرڈنینس میں تبدیلی کے مرتکب دائرۂ اسلام سے خارج شمار ہوں گے؟

    یونیکوڈ   حدود و قصاص 0
  • زانی کو از خود قتل کرنا

    یونیکوڈ   حدود و قصاص 0
  • کسی کے قتل کا بظاہر سبب بننے کی ایک صورت اور اس کا حکمِ شرعی

    یونیکوڈ   حدود و قصاص 0
  • قصاص سے متعلق شبہ اور اس کا جواب

    یونیکوڈ   حدود و قصاص 0
  • قتل عمد کی ایک صورت کا حکم

    یونیکوڈ   حدود و قصاص 1
  • آنکھ ضائع کرنے کی جنایت کا حکم

    یونیکوڈ   حدود و قصاص 0
  • مقتول کی دیت معاف کرنے کا اختیار کس کو ہے؟

    یونیکوڈ   حدود و قصاص 2
  • ڈپریشن کی وجہ سے بچہ کو قتل کرنے والی ماں کیلیے حکم

    یونیکوڈ   حدود و قصاص 0
  • چچا زاد بھائیوں کا اپنی چچا زاد بہن کو قتل کرنے کی صورت میں دیت کا حکم

    یونیکوڈ   حدود و قصاص 0
  • بیوی سے ہمبستری کرنے کی وجہ سے اگر بچہ ضائع ہو گیا تو کیا خاوند پر اس کی دیت آئے گی؟

    یونیکوڈ   حدود و قصاص 0
Related Topics متعلقه موضوعات