حدود و قصاص

ڈپریشن کی وجہ سے بچہ کو قتل کرنے والی ماں کیلیے حکم

فتوی نمبر :
79791
| تاریخ :
2024-12-05
عقوبات / حدود و سزا / حدود و قصاص

ڈپریشن کی وجہ سے بچہ کو قتل کرنے والی ماں کیلیے حکم

السلام علیکم ،اگر کوئی عورت اپنے نومولود بچے کو خود ہی ڈپریشن کا شکار ہو کر قتل کردے اور بعد میں انتہائی پشیمان ہو اسکے علاؤہ اپنے شوہر سے معافی مانگ لے اور اللہ سے انتہائی توبہ کرے تو کیا توبہ قبول ہوگی؟ نیز اس گناہ کا کفارہ کیا ہے ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ کسی انسان کا قتل گناہِ کبیرہ ہے، چاہے وہ کسی نوجوان کا ہو یا نومولود کا، پھر چاہے وہ والدین کے ہاتھ سے سرزد ہو یا کسی غیر کے ہاتھ سے ،بہر صورت ناجائز و حرام اور شرعاً قابل سزا جرم ہے، لہذا صورتِ مسئولہ میں اگر واقعۃً ماں نے اپنے نومولود بچے کی جان لی ہو تو اس پر لازم ہے کہ وہ اپنے اس جرم پر بصدقِ د ل توبہ و استغفار کرے، اور شرعی طور پر اس کی سزا یہ ہے کہ اولیاء کے مطالبہ پروہ اس قتل کی دیت ادا کرے ۔

مأخَذُ الفَتوی

کما قال اللہ تعالی: وَلَا تَقۡتُلُوا أَوۡلَٰدَكُمۡ خَشۡيَةَ إِمۡلٰق نَّحۡنُ نَرۡزُقُهُمۡ وَ إِيَّاكُمۡ إِنَّ قَتۡلَهُمۡ كَانَ خِطۡـا كَبِيرا، (سورۃ الاسراء، الآیۃ: 31)-
وقال ایضاً: إِنَّ اللَّهَ لَا يَغۡفِرُ أَن يُشۡرَكَ بِهِ وَيَغۡفِرُ مَا دُونَ ذَٰلِكَ لِمَن يَشَآءُ وَمَن يُشۡرِكۡ بِاللَّهِ فَقَدِ افۡتَرَىٰٓ إِثۡمًا عَظِيمًا، (سورۃ النساء، الآیۃ: 48)-
وفی التفسیر المظھری: تحت قولہ تعالی (إن الله لا يغفر أن يشرك به تعالى) فى وجوب الوجود او العبادة إذا مات وهو مشرك واما إذا تاب عن الشرك وأمن فيغفر له ما قد سلف منه من الشرك وغيره اجماعا لان التائب من الذنب كمن لا ذنب له يعنى كانه لم يصدر عنه ذلك الذنب قط، قال الله تعالى (قل للذين كفروا إن ينتهوا يغفر لهم ما قد سلف ويغفر ما دون ذلك) يعنى ما سوى الشرك من الذنوب صغيرة كانت او كبيرة صدرت عنه خطأ او عمدا وان مات مذنبا لم يتب لمن يشاء تعميم المغفرة لما دون الشرك، الخ (ج 2، ق 2، ص 137، ط: مکتبۃ الرشدیۃ)-
وفی الھندیۃ: و لا يقتل الرجل بابنه و الجد من قبل الرجال و النساء، و إن علا فی هذا بمنزلة الأب، و كذا الوالدة و الجدة من قبل الأب و الأم قربت، أو بعدت كذا فی الكافی، ثم على الآباء و الأجداد الدية بقتل الابن عمدا فی أموالهم فی ثلاث سنين، و إن كان الوالد قتل ولده خطأ فالدية على عاقلته، و عليه الكفارة فی الخطأ، و لا كفارة عليه فی العمد عندنا،الخ (كتاب الجنايات، الباب الثانی فيمن يقتل قصاصا و من لا يقتل، ج 6، ص 4، ط: مکتبۃ ماجدیۃ)-
وفیھا ایضاً: قال أبو حنيفةؒ: من الإبل مائة، ومن العين ألف دينار، و من الورق عشرة آلاف، و للقاتل الخيار يؤدی أیّ نوع شاء كذا فی محيط السرخسی و قالا: و من البقر مائتا بقرة، و من الغنم ألفا شاة، و من الحلل مائتا حلة كل حلة ثوبان كذا فی الهداية، (كتاب الجنايات، الباب الثامن فی الديات،ج 6، ص 24، ط: مکتبۃ ماجدیۃ)-
وفیھا ایضاً: للأب استيفاء القصاص لابنه الصغير فی النفس وفيما دون النفس، ويستحق القصاص من يستحق ميراثه على فرائض الله تعالى فيدخل فيه الزوج والزوجة وكذا الدية، (كتاب الجنايات، الباب الثالث فيمن يستوفی القصاص، ج 6، ص 7، ط: مکتبۃ ماجدیۃ)-

واللہ تعالی اعلم بالصواب
عبداللہ اسد عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 79791کی تصدیق کریں
0     274
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • زنا بالجبر میں ڈی این اے ٹیسٹ - DNA Test - کے ثبوت کی حیثیت

    یونیکوڈ   اسکین   حدود و قصاص 0
  • زنا بالجبر کی صورت میں گناہگار ہونے نہ ہونے کی تفصیل

    یونیکوڈ   حدود و قصاص 0
  • قتلِ عمد میں مکرِہ (مجبور کنندہ)پر قصاص کا حکم

    یونیکوڈ   حدود و قصاص 0
  • کیا حضورؐ سے بذات خود کسی مجرم کو قتل کرنا یا ہاتھ کاٹنا ثابت ہے؟

    یونیکوڈ   حدود و قصاص 0
  • کیا حدود آرڈنینس میں تبدیلی کے مرتکب دائرۂ اسلام سے خارج شمار ہوں گے؟

    یونیکوڈ   حدود و قصاص 0
  • زانی کو از خود قتل کرنا

    یونیکوڈ   حدود و قصاص 0
  • کسی کے قتل کا بظاہر سبب بننے کی ایک صورت اور اس کا حکمِ شرعی

    یونیکوڈ   حدود و قصاص 0
  • قصاص سے متعلق شبہ اور اس کا جواب

    یونیکوڈ   حدود و قصاص 0
  • قتل عمد کی ایک صورت کا حکم

    یونیکوڈ   حدود و قصاص 1
  • آنکھ ضائع کرنے کی جنایت کا حکم

    یونیکوڈ   حدود و قصاص 0
  • مقتول کی دیت معاف کرنے کا اختیار کس کو ہے؟

    یونیکوڈ   حدود و قصاص 2
  • ڈپریشن کی وجہ سے بچہ کو قتل کرنے والی ماں کیلیے حکم

    یونیکوڈ   حدود و قصاص 0
  • چچا زاد بھائیوں کا اپنی چچا زاد بہن کو قتل کرنے کی صورت میں دیت کا حکم

    یونیکوڈ   حدود و قصاص 0
  • بیوی سے ہمبستری کرنے کی وجہ سے اگر بچہ ضائع ہو گیا تو کیا خاوند پر اس کی دیت آئے گی؟

    یونیکوڈ   حدود و قصاص 0
Related Topics متعلقه موضوعات