حدود و قصاص

آنکھ ضائع کرنے کی جنایت کا حکم

فتوی نمبر :
73235
| تاریخ :
2024-05-19
عقوبات / حدود و سزا / حدود و قصاص

آنکھ ضائع کرنے کی جنایت کا حکم

کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ میں کہ اگر لڑائی جھگڑے کے دوران ایک آدمی دوسرے کی آنکھ پر مکا مارے اور اس سے مضروب کی آنکھ کی بنائی چلی جائے تو شریعت میں اس جنایت کی دیت و تاوان کیا ہے ؟ جو بھی شرعی حکم ہو تحریر فرمائیں ۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ اگر کوئی شخص قصداً و عمداً کسی دوسرے شخص کے اعضاء میں سے کسی عضو کو ضائع کر دے تو اگر مماثلت اور برابری کی رعایت رکھتے ہوئے جنایت کرنے والے شخص سے قصاص لیا جا سکتا ہو تو متأثرہ شخص کے مطالبے پر بذریعہ عدالت اس سے قصاص لیا جا ئے گا ، البتہ اگر مماثلت اور برابری ممکن نہ ہو تو پھر اعضاء میں سے اگر کسی عضو کی منفعت مکمل طور پر ضائع ہو جائے تو ایسی صورت میں جنایت کرنے والے کے ذمہ اس عضوء کی مکمل دیت لازم ہوگی ، لہذا صورتِ مسئولہ میں مکا مارنے کی وجہ سے اگر آنکھ مکمل طور پر ضائع ہو چکی ہو اور اب اس سے دیکھا نہ جا سکتا ہو اور مماثلت اور برابری ممکن نہ ہونے کی وجہ سے قصاص بھی نہ لیا جا سکتا ہو تو ایسی صورت میں مارنے والے کے ذمہ متأثرہ شخص کو کل دیت کا نصف دینا لازم اور ضروری ہوگا ، البتہ اگر فریقین مذکور مقدار سے کم پر صلح کرلیں اور مکا مارنے والا شخص متأثرہ شخص کو علاج و معالجہ پر آنے والے اخراجات کے بقدر یا اس سے کم و بیش رقم دیکر اس کے نقصان کی تلافی کرے اور مذکور شخص بھی اس پر رضامند ہو تو شرعاً اس میں بھی کوئی مضائقہ نہیں ۔

مأخَذُ الفَتوی

كما في سنن الدار قطني : عن عمرو بن حزم، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كتب إلى أهل اليمن وكان في كتابه «وفي الأنف إذا أوعب جدعه الدية، ( إلى قوله) وفي الصلب الدية، وفي العينين الدية الخ ( ‌‌باب كم الدية من الإبل، ج 3، ص 1031، ط : دار المغني للنشر و التوزيع)-
و في الأثار لأبي يوسف : عن إبراهيم، أنه قال في «السن نصف العشر (إلى قوله) ‌وفي ‌اللسان ‌الدية، وفي العينين الدية، وفي الواحدة النصف الخ ( باب الديات، ص 219، رقم : 968، ط : دار الكتب العلمية، بيروت)-
و في الأصل للإمام محمد : وبلغنا عن علي بن أبي طالب رضي الله عنه أنه قال في النفس الدية ( إلى قوله) وفي الأنف الدية كاملة إذا اصطلم وفي العينين الدية وفي إحداهما نصف الدية ( ‌‌كتاب الديات، ج 4، ص 443، ط : مطبعة مجلس دائرة المعارف)-
و في الهداية : والأصل في الأطراف أنه إذا فوت جنس منفعة على الكمال أو أزال جمالا مقصودا في الآدمي على الكمال يجب كل الدية لإتلافه النفس من وجه وهو ملحق بالإتلاف من كل وجه تعظيما للآدمي ( إلى قوله) قال: "وكذا إذا ذهب سمعه أو بصره أو شمه أو ذوقه" لأن كل واحد منها منفعة مقصودة، وقد روي: أن عمر رضي الله عنه قضى بأربع ديات في ضربة واحدة ذهب بها العقل والكلام والسمع والبصر ( كتاب الديات، ج 4، 462، ط : دار إحياء التراث العربي،بيروت)-
و في الجوهرة النيرة : قوله : (‌ومن ‌العين ‌ألف ‌دينار) وهذا لا خلاف فيه. قوله : (ومن الورق عشرة آلاف) يعني وزن سبعة ( كتاب الديات ، ج 2، ص 128، ط : المطبعة الخيرية)-
و في الدر المختار : (وهو في كل ما يمكن فيه رعاية حفظ المماثلة) وحينئذ (فيقاد قاطع اليد عمدا من المفصل) فلو ‌القطع ‌من ‌نصف ساعد أو ساق أو من قصبة أنف لم يقد لامتناع حفظ المماثلة وهي الأصل في جريان القصاص (وإن كانت يده أكبر منها) لاتحاد المنفعة (وكذا) الحكم في (الرجل والمارن والأذن، و) كذا (عين ضربت فزال ضوءها وهي قائمة) غير منخسفة (فيجعل على وجهه قطن رطب وتقابل عينه بمرآة محماة، ولو قلعت لا) قصاص لتعذر المماثلة ( ‌‌باب القود فيما دون النفس ، ج 6، ص 550، ط : سعيد)-
و في رد المحتار : تحت ( قوله و عن الثاني الخ) ضرب عين إنسان فابيضت بحيث لا يبصر بها لا قصاص فيه عند عامة العلماء لتعذر المماثلة فقأ عين رجل وفي عين الفاقئ بياض ينقصها فللرجل أن يفقأ البيضاء أو أن يأخذ أرش عينه. جنى على عين فيها بياض يبصر بها وعين الجاني كذلك فلا قصاص بينهما. وفي العين القائمة الذاهب نورها حكومة عدل، وكذا لو ضربها فابيض بعض الناظر أو أصابها قرحة أو ريح أو سبل أو شيء مما يهيج بالعين فنقص من ذلك تتارخانية (باب القود فيما دون النفس ، ، ج 6، ص 551، ط : سعيد)-

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد عبدالمجید نور عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 73235کی تصدیق کریں
0     1213
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • زنا بالجبر میں ڈی این اے ٹیسٹ - DNA Test - کے ثبوت کی حیثیت

    یونیکوڈ   اسکین   حدود و قصاص 0
  • زنا بالجبر کی صورت میں گناہگار ہونے نہ ہونے کی تفصیل

    یونیکوڈ   حدود و قصاص 0
  • قتلِ عمد میں مکرِہ (مجبور کنندہ)پر قصاص کا حکم

    یونیکوڈ   حدود و قصاص 0
  • کیا حضورؐ سے بذات خود کسی مجرم کو قتل کرنا یا ہاتھ کاٹنا ثابت ہے؟

    یونیکوڈ   حدود و قصاص 0
  • کیا حدود آرڈنینس میں تبدیلی کے مرتکب دائرۂ اسلام سے خارج شمار ہوں گے؟

    یونیکوڈ   حدود و قصاص 0
  • زانی کو از خود قتل کرنا

    یونیکوڈ   حدود و قصاص 0
  • کسی کے قتل کا بظاہر سبب بننے کی ایک صورت اور اس کا حکمِ شرعی

    یونیکوڈ   حدود و قصاص 0
  • قصاص سے متعلق شبہ اور اس کا جواب

    یونیکوڈ   حدود و قصاص 0
  • قتل عمد کی ایک صورت کا حکم

    یونیکوڈ   حدود و قصاص 1
  • آنکھ ضائع کرنے کی جنایت کا حکم

    یونیکوڈ   حدود و قصاص 0
  • مقتول کی دیت معاف کرنے کا اختیار کس کو ہے؟

    یونیکوڈ   حدود و قصاص 2
  • ڈپریشن کی وجہ سے بچہ کو قتل کرنے والی ماں کیلیے حکم

    یونیکوڈ   حدود و قصاص 0
  • چچا زاد بھائیوں کا اپنی چچا زاد بہن کو قتل کرنے کی صورت میں دیت کا حکم

    یونیکوڈ   حدود و قصاص 0
  • بیوی سے ہمبستری کرنے کی وجہ سے اگر بچہ ضائع ہو گیا تو کیا خاوند پر اس کی دیت آئے گی؟

    یونیکوڈ   حدود و قصاص 0
Related Topics متعلقه موضوعات