السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ! امیدوار ہوں کہ آپ سب حضرات ٹھیک ہونگے جناب مفتی صاحب ! ایک اشکال ذہن میں گردش پذیر ہے جس کا اطمینان بخش جواب آپ سے درکار ہے ، وہ یہ کہ زید نے بکر کو قتل کیا اب بکر کا قتل ہونا اس بات پر دال ہے کہ اسکا وقت پورا نہیں ہوا تھا کہ زید نے مار دیا اور اگر خدا نے اسکی جان لی ہے تو پھر یہ اشکال پیدا ہوتا ہے کہ جان خدا نے لی قصاص زید سے کیوں لیا جاتا ہے زید نے وقت آنے سے پہلے اس کو قتل کیا تب تو قصاص سمجھ میں آتا ہے رہنمائی فرمائیں ۔
واضح ہو کہ ہر شخص اپنے مقررہ وقت پر ہی اللہ تعالی کے حکم سے اس دنیا سے انتقال کرتا ہے، نہ وقت سے پہلے مرتا ہے اور نہ ہی مقررہ وقت کے بعد ، یہ بات قرآن و حدیث کی واضح نصوص سے ثابت ہے ۔ جہاں تک سائل کے اشکال کی بات ہے تو اس کی تفصیل یہ ہے کہ قاتل سے جو قصاص لیا جاتا ہے ، وہ اس کے اقدامِ قتل کی وجہ سے لیا جاتا ہے جوکہ اس کے اپنے دائرۂ اختیار میں ہے ، اور اسی اختیار کو صحیح اور نیک کاموں میں استعمال کرنے کی وجہ سے بندہ ثواب کا مستحق ٹھہرتا ہے ، اور غلط استعمال کرنے کی وجہ سے عذاب کا مستحق ہوتا ہے ، چونکہ قاتل کو مقتول کے مقررہ وقت کا علم نہیں ہوتا ، اس لئے قتل کی نسبت اس کی طرف کرتے ہوئے کہا جاتا ہے کہ اگر قاتل اس کو قتل نہ کرتا تو یہ مزید زندہ رہتا ، اس نے قتل کرکے اس کی زندگی ختم کردی ، لہذا شریعت میں قصاص کا حکم مشروع ہوا ہے ۔
كما قال الله تعالى : يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِصَاصُ فِي الْقَتْلَى (إلى قوله تعالى) وَلَكُمْ فِي الْقِصَاصِ حَيَاةٌ الخ ( سورة البقرة ، الأية : 178-179)-
و قال تعالى أيضا : وَلِكُلِّ أُمَّةٍ أَجَلٌ فَإِذَا جَاءَ أَجَلُهُمْ لَا يَسْتَأْخِرُونَ سَاعَةً وَلَا يَسْتَقْدِمُونَ (سورة الأعراف، الأية : 34)-
و قال تعالى أيضا : وَلَنْ يُؤَخِّرَ اللَّهُ نَفْسًا إِذَا جَاءَ أَجَلُهَا وَاللَّهُ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ (سورة المنافقون، الأية : 11)-
و قال تعالى أيضا : وَمَا كَانَ لِنَفْسٍ أَنْ تَمُوتَ إِلَّا بِإِذْنِ اللَّهِ كِتَابًا مُؤَجَّلًاالخ (سورة أل عمران، الأية : 145)-
و في صحيح مسلم : عن عبد الله بن عمرو بن العاص قال سمعت رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يقول « كتب الله مقادير الخلائق قبل أن يخلق السموات والأرض بخمسين ألف سنة قال وعرشه على الماء ». ( باب حجاج أدم و موسى عليهم السلام، رقم : 2653، ص 1098، ط : مؤسسة الرسالة)-
و في شرح ملا علي القاري على الفقه الأكبر: ومنها أن المقتول ميت بأجله ووقته المقدر لموته ( إلى قوله ) إن وجوب العقاب والضمان على القاتل تعبدي لارتكابه المنهي عنه وكسبه الفعل الذي يخلق الله عقيبه الموت بطريق جري العادة ، فإن القتل فعل القاتل كسبا، وإن لم يكن له خلقا ، والموت قائم بالميت ومخلوق الله تعالى لا صنع فيه للعبد تخليقا ولا اكتسابا الخ ( ص217، ط : قدیمي)-
وفيه أيضا : فالمقتول ميت بأجله وقد علم الله تعالى وقدر وقضى أن هذا يموت بسبب المرض، وهذا يموت بسبب القتل وهذا بالهدم وهذا بالهرم وهذا بالغرق وهذا بالحرق وهذا بالقبض ( إلى قوله ) والله سبحانه خلق الموت والحياة وخلق أسبابهما الخ (ص 218، ط : قديمي )-
و في شرح العقائد النسفية : وللعباد أفعال اختیاري يثاب بها إن كانت طاعة ويعاقبون عليها إن كانت معصية ( إلى قوله ) ولأنه لولم يكن للعبد فعل أصلا لما صح تكليفه ولا ترتب استحقاق الثواب والعقاب على أفعاله ولا إسناد الفعل التي تقتضي سابقية القصد والاختيار، إليه على سبيل الحقيقة، مثل : صلى وكتب وصام بخلاف مثل : طال الغلام واسود لونه ، والنصوص القطعية تنفي ذلك . كقوله ( جزاء بما كانوا يعملون ) وقوله تعالى (فمن شاء فليؤمن ومن شاء فليكفر الخ ( وللعباد أفعال اختياري، ص ۲۸۹، ط : البشرى )-
و في النبراس شرح شرح العقائد النسفية : الجبر والقدر :- فيه ستة مذاهب ( إلى قوله) ثالثها للأشعري، وهو أن الفعل بقدرة الله وحدها ، لكن للعبد قدرة واختيار إذا صرفهما إلى الفعل خلق الله الفعل منه ، فالفعل مخلوق الله ومكسوب العبد الخ ( وللعباد أفعال اختيارى ، ص ۲۸9 ، ط : البشرى)-
بیوی سے ہمبستری کرنے کی وجہ سے اگر بچہ ضائع ہو گیا تو کیا خاوند پر اس کی دیت آئے گی؟
یونیکوڈ حدود و قصاص 0