نکاح

والدہ کا بیٹے کو پسند کی شادی سے منع کرنا

فتوی نمبر :
92540
| تاریخ :
2026-02-23
معاملات / احکام نکاح / نکاح

والدہ کا بیٹے کو پسند کی شادی سے منع کرنا

میں اپنی پسند کی لڑکی سے شادی کرنا چاہتا ہوں، جس پر میری والدہ رضامند نہیں ہیں بغیر لڑکی کے گھر وزٹ کیے، انہیں پسند کی شادی سے انسیکیورٹیزہے کہ کہیں لڑکا بدل نہ جائے شادی کے بعد، میری ترجیح نکاح ہے، وہ چاہتی ہیں میں پہلے مزید 2 سال پیسے کماؤں پھر شادی کروں، میری عمر 27 سال ہے اور میں قطر میں سافٹ ویئر انجینئر ہوں، تنخواہ بہت اچھی ہے جس میں میں اپنے والدین اور بیوی کو خوش رکھ سکتا ہوں، گھر پر ماہانہ اچھی خاصی رقم بھیجتا ہوں جس سے میرے چھوٹے بھائی اور بہنوں اور امی ابو کا گزر بسر ہوتا ہے، ان کا یہ خیال ہے کہ والدین تجربہ کار ہوتے ہیں انہیں یہ فیصلہ کرنے دو، ہم نے تمہیں پڑھایا لکھایا بڑا کیا اب یہ فیصلہ تم خود نہیں کر سکتے، 4 مہینے سے امی کو منانے کی کوشش میں لگا ہوں لیکن وہ منع کرتی ہیں ابھی نہیں پہلے اور کما لو، میں لڑکی دیکھنے نہیں جاؤں گی خود جانا، میں شادی میں شریک نہیں ہوں گی، نکاح تو دور وہ بات پکی پر بھی رضامند نہیں ہیں اور اس حوالے سے کوئی بات ہی نہیں کرتیں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ شریعت مطہرہ نے نکاح کے معاملے میں جس طرح والدین اور اولیاء کی رائے کا احترام کرنے کی تلقین کی ہے،اسی طرح اولاد کے عاقل بالغ ہونے کے بعد انہیں اپنی زندگی کے اہم فیصلوں میں رائے دینے اور اپنی پسند و ناپسند کے اظہار کا حق بھی دیا ہے ، اس لیے والدین کو چاہیے کہ وہ بلا کسی وجہ کے اپنی اولاد کی جائز خواہشات کو نظر انداز نہ کریں بلکہ ان کی پسند و ناپسند کا لحاظ رکھیں ۔ لہٰذا صورتِ مسئولہ میں سائل جس لڑکی سے نکاح کرنا چاہتا ہے اگر وہ دین داری، حسب و نسب اور حسن و جمال کے اعتبار سے سائل سے مناسب ہو اور اس رشتے کو رد کرنے کی کوئی معقول وجہ موجود نہ ہو تو سائل کی والدہ کو چاہیے کہ وہ سائل کی پسند کو ترجیح دیں تاکہ میاں بیوی کے درمیان مستقبل میں ذہنی ہم آہنگی برقرار رہ کر یہ رشتہ خاندان کے جوڑ کا سبب بنے ۔ البتہ اگر سائل کی والدہ یہ سمجھتی ہوں کہ اس رشتے میں مستقبل کے اعتبار سے کسی نقصان یا پریشانی کا اندیشہ ہے تو انہیں چاہیے کہ نرمی اور محبت کے ساتھ اپنے خدشات سائل کے سامنے رکھیں، ایسی صورت میں سائل کو بھی چاہیے کہ وہ اپنی والدہ کی بات پر غور کرے کیونکہ ممکن ہے کہ والدہ کو کچھ ایسے حقائق معلوم ہوں جو سائل کے علم میں نہ ہوں۔ لہٰذا اگر وہ کوئی معقول وجہ بیان کریں تو سائل کو چاہیے کہ وہ ان کی بات قبول کرے اور اپنی رائے پر اصرار نہ کرے،تاہم سائل کی والدہ کا فقط سائل کی کمائی کی وجہ سے اس کے رشتے میں تاخیر کرنا( جبکہ اس کی عمر شادی کی ہو چکی ہے) مناسب نہیں، بلکہ اگر( خدانخواستہ) سائل کسی فتنہ میں مبتلا ہو جاتا ہے تو اس کی وجہ سے اس کے والدین بھی گناہگار ہوں گے، اس لیے انہیں بلا وجہ اس سلسلے میں تاخیر کرنے سے اجتناب چاہیے۔

مأخَذُ الفَتوی

كما في مشكوة المصابيح:وعن ابي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " «إذا خطب إليكم من ترضون دينه وخلقه فزوجوه، إن لا تفعلوه تكن فتنة في الأرض وفساد عريض» . رواه الترمذي (كتاب النكاح،ج:٢،ص:٢٦٧،ط:قديمى كتب خانه)
وفيها ايضاََ:وعن أبي سعيد وابن عباس قالا: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من ولد له ولد فليحسن اسمه وأدبه ‌فإذا ‌بلغ ‌فليزوجه فإن بلغ ولم يزوجه فأصاب إثما فإنما إثمه على أبيه (‌‌باب الولي في النكاح واستئذان المرأة،ج:٢،ص:٩٣٩،ط:المكتب الاسلامى)
وفي مرقاة المفاتيح: عن أبي هريرة (قال: «قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إذا خطب إليكم» ) أي: طلب منكم أن تزوجوه امرأة من أولادكم وأقاربكم (من ترضون) أي: تستحسنون (دينه) أي: ديانته (وخلقه) أي: معاشرته (فزوجوه) أي: إياها (إن لا تفعلوه) أي: لا تزوجوه (تكن) أي: تقع ( «فتنة في الأرض وفساد عريض» ) أي: ذو عرض أي كثير، لأنكم إن لم تزوجوها إلا من ذي مال أو جاه ربما يبقى أكثر نسائكم بلا أزواج وأكثر رجالكم بلا نساء، فيكثر الافتتان بالزنا اھ(كتاب النكاح،ج:٦،ص:٢٧١،ط:المكتبة الغفارية)
وفي الدرالمختار:(ولا تجبر البالغة البكر على النكاح) لانقطاع الولاية بالبلوغ الخ(‌‌باب الولي،ج:٣،ص:٥٤،ط:سعيد)
وفي ردالمحتار:تحت(قوله ولا تجبر البالغة) ولا الحر البالغ والمكاتب والمكاتبة ولو صغيرين ح عن القهستاني اھ(‌‌باب الولي،ج:٣،ص:٥٤،ط:سعيد)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
بھائی محمد عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 92540کی تصدیق کریں
0     13
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات