میں گزارش کرتا ہوں کہ ہماری شرعی رہنمائی فرمائیں۔
ہماری شادی 2022 میں ہوئی تھی، اس وقت دونوں کی عمر تقریباً 31 سال تھی۔ شادی مکمل طور پر دونوں کی باہمی رضامندی سے ہوئی، گواہان موجود تھے، ایجاب و قبول ہوا، مہر مقرر اور ادا بھی ہو چکی ہے۔ ابھی تک ہماری کوئی اولاد نہیں ہے۔ نکاح متحدہ عرب امارات (UAE) میں سرکاری طور پر رجسٹر ہوا، اور ہمارے پاس وہاں کا رجسٹرڈ نکاح نامہ موجود ہے۔
چونکہ دلہن کے کوئی خونی یا نسبی ولی موجود نہیں تھے (وہ پیدائش کے وقت گود لی گئی تھیں)، اس وقت ان کے رضاعی بھائی نے ولی کے طور پر نکاح کرایا۔ اُس وقت ہمیں یہ علم نہیں تھا کہ رضاعی بھائی شرعی طور پر ولی نہیں بن سکتا۔
اب ہم چاہتے ہیں کہ نکاح شرعی لحاظ سے مکمل درست ہو جائے (تجدیدِ نکاح)۔ ہم چاہتے ہیں کہ یہ عمل:
گواہان کی موجودگی میں ہو
ایجاب و قبول اور مہر کی توثیق مکمل ہو
ہماری استفسار یہ ہے کہ:
کیا ہماری موجودہ شادی شرعی لحاظ سے درست ہے؟
اگر تجدید کرنا ضروری ہو تو کیا پاکستان میں سرکاری طور پر یونین کونسل یا حکومت کی طرف سے مقرر شدہ نکاح رجسٹرار، عدم موجودگیِ ولی کی صورت میں ولی الحاکم کے نائب (Nā’ib al-Hakim) کے طور پر نکاح کروا سکتا ہے؟
اگر اس کے لیے کوئی خاص طریقہ یا شرائط ہیں تو براہِ کرم وضاحت فرمائیں تاکہ ہم شرعی طور پر درست طریقے سے نکاح کی تجدید کر سکیں۔
ہم یہ عمل صرف شرعی اطمینان کے لیے کر رہے ہیں اور کسی قانونی مسئلے یا پچھلی رجسٹریشن میں تبدیلی نہیں چاہتے۔
اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے۔
واضح ہو کہ شرعا نکاح کے درست اور لازم انعقاد کے لئے متعاقدین کا عاقل بالغ ہونا اور ان کا یا ان کے وکیلوں اور گواہوں کا مجلس نکاح میں موجود ہونا اور گواہوں کا ایجاب و قبول کے الفاظ سننا لازم اور صحت ِنکاح کے لئے شرط ہے، لہذا صورت مسئولہ میں جب یہ تمام شرائط ابتداء نکاح کے وقت پائی جاچکی ہیں (اور لڑکا اور لڑکی باہم کفؤبھی ہو)تو نکاح کے وقت اگرچہ حقیقی ولی موجود نہ ہو تب بھی سائل کا نکاح شرعا منعقد ہو چکا ہے، اس لیے اب بلاوجہ پریشان ہونے کی کوئی ضرورت نہیں،البتہ اپنے اطمینان کے لیے اولیاء کی اجازت اور موجودگی میں دوبارہ نکاح کرنے میں بھی کوئی حرج نہیں۔
کمافي موطا مالك: عن سعيد بن المسيب، قال: قال عمر بن الخطاب: لا يصلح لامرأة أن تنكح إلا بإذن وليها، أو ذي الرأي من أهلها، أو السلطان، قال محمد: لا نكاح إلا بولي، فإن تشاجرت هي والولي فالسلطان ولي من لا ولي له، فأما أبو حنيفة، فقال: إذا وضعت نفسها في كفاءة ولم تقصر في نفسها في صداق، فالنكاح جائز، ومن حجته قول عمر في هذا الحديث: أو ذي الرأي من أهلها، إنه ليس بولي، وقد أجاز نكاحه لأنه إنما أراد أن لا تقصر بنفسها فإذا فعلت هي ذلك جاز(باب:النکاح بغیر ولی،ص:181،ط:المکتبۃ العلمیۃ)
وفی الدرالمختار: (و)شرط(حضور)شاھدین(حرین)اوحروحرتین(مکلفین سامعین قولھما معا)(کتاب النکاح، ج:3،ص:22مط: سعید)
وفیه أیضًا: (لو استووا في الدرجة وإلا فللأقرب) منهم(حق الفسخ وإن لم يكن لها ولي فهو) أي العقد (صحيح) نافذ (مطلقا) اتفاقا."(کتاب النکاح،باب الولي،ج:3،ص:58،ط:سعید)
وفی الموسوعة الفقهية الكويتية: قال الحنفية: الولي في النكاح العصبة بنفسه وهو من يتصل بالميت حتى المعتق بلا توسط أنثى على ترتيب الإرث والحجب، فيقدم الابن على الأب عند أبي حنيفة وأبي يوسف خلافاً لمحمد حيث قدم الأب، وفي الهندية عن الطحاوي: إن الأفضل أن يأمر الأب الابن بالنكاح حتى يجوز بلا خلاف، وابن الابن كالابن، ثم يقدم الأب، ثم أبوه، ثم الأخ الشقيق، ثم لأب، ثم ابن الأخ الشقيق، ثم لأب، ثم العم الشقيق، ثم لأب، ثم ابنه كذلك، ثم عم الأب كذلك، ثم ابنه كذلك، ثم عم الجد كذلك، ثم ابنه كذلك"(باب الولی،ج:41،ص:275،ط:وزارة الأوقاف و الشئون الإسلامية)