نکاح

ویڈیو کال کے ذریعہ نکاح ہوسکتاہے؟

فتوی نمبر :
92417
| تاریخ :
2026-02-20
معاملات / احکام نکاح / نکاح

ویڈیو کال کے ذریعہ نکاح ہوسکتاہے؟

کیا ویڈیو کال پر آن لائن نکاح جائز ہے، گویا دولہا سعودی عرب میں اور دلہن لاہور میں؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ نکاح کے انعقاد کیلئے متعاقدین (لڑکا، لڑکی) یا ان کی طرف سے مقرر کردہ وکیلوں اور گواہوں کا ایک مجلس میں موجود ہونا لازم اور ضروری ہے،لہذا اگر یہ سب ایک مجلس میں نہ ہوں تو ویڈیو کال یا ٹیلیفون وغیرہ کے ذریعہ نکاح شرعاً درست نہیں، اس لئے اس سے احتراز لازم ہے، البتہ اگر دولہے یا دلہن کے لئے بوقت نکاح حاضری ممکن نہ ہو اور وہ فوراً نکاح بھی کرنا چاہتا ہو تو اانہیں چاہیے کہ باقاعدہ اپنے والد یا بھائی وغیرہ کو عقد نکاح میں اپنی طرف سے ایجاب وقبول کرنے کیلئے وکیل بنالے، پھر جب مجلس نکاح قائم ہو تو وہ وکیل نکاح خواں کے سامنے ان کی طرف سے ایجاب و قبول کرے،تو ایسا کرنے سے شرعاً یہ نکاح درست منعقد ہو جائے گا۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الدر: ومن شرائط الإیجاب والقبول: اتحاد المجلس لوحاضرین(‌‌كتاب النكاح،ج: 3،ص: 14،مط: دار الفکر)
و فی رد المحتار: (قوله: اتحاد المجلس) قال في البحر: فلو اختلف المجلس لم ینعقد، فلو أوجب أحدهما فقام الآخر أو اشتغل بعمل آخر، بطل الإیجاب؛ لأن شرط الارتباط اتحاد الزمان، فجعل المجلس جامعاً تیسیراً،اھ(‌‌كتاب النكاح ،ج: 3،ص: 14،مط: دار الفکر)
و فی البدائع: أن ‌يكون ‌الإيجاب ‌والقبول ‌في ‌مجلس واحد حتى لو اختلف المجلس لا ينعقد النكاح، بأن كانا حاضرين فأوجب أحدهما فقام الآخر عن المجلس قبل القبول، أو اشتغل بعمل يوجب اختلاف المجلس، لا ينعقد،اھ(كتاب النكاح،فصل شرائط الركن،ج: 2،ص: 232،مط: دار الکتب العلمیہ)
وفي الهندية : يصح التوكيل بالنكاح وان لم یحضره الشهود، اهـ (كتاب النكاح،الباب السادس في الوكالة بالنكاح وغيرها، ج: 1، ص: ۲۹4، ط: دار الفکر )

واللہ تعالی اعلم بالصواب
سید قدرت اللہ یار عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 92417کی تصدیق کریں
0     6
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات