شیعہ لڑکی اور سنی لڑکے کا نکاح جائز ھے یا نہیں۔
واضح ہو کہ شیعہ لڑکی اگر فرقہ اثنا عشریہ سے تعلق نہ رکھتی ہو اور نہ ہی صریح مخالفِ قرآن کوئی کفریہ عقیدہ رکھتی ہو، مثلاً حضرت علی رضی اللہ عنہ کی الوہیت کی قائل نہ ہو ، اور نہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر لگائی گئی تہمت کو درست نہ مانتی ہو ، اور حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی صحابیت کی بھی منکر نہ ہو ، اور حضرت جبرائیل علیہ السلام کے وحی لانے میں غلطی کی قائل نہ ہو ، اور قرآن کریم میں تحریف کی بھی قائل نہ ہو تو ایسی شیعہ لڑکی سے کسی بھی سنی لڑکے کا نکاح کرنا اگر چہ جائز اور درست ہے، مگر بہتر یہ ہے کہ ایسی عورت سے نکاح کے بجائے کسی ایسی صحیح العقیدہ سنی لڑکی سے نکاح کیا جائے جس کے عقیدے میں کوئی شبہ نہ ہو، تاکہ آنےوالی نسلوں پر غلط اثر نہ پڑے۔
کما فی صحیح البخاری: عن أبي هريرة رضي الله عنه، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال:(تنكح المرأة لأربع: لمالها ولحسبها وجمالها ولدينها، فاظفر بذات الدين تربت يداك،( باب: الأكفاء في الدين،ج: 5،ص: 1958،رقم الحدیث: 4802،مط: دار ابن کثیر)
و فی ردالمحتار: وبهذا ظهر أن الرافضي إن كان ممن يعتقد الألوهية في علي، أو أن جبريل غلط في الوحي، أو كان ينكر صحبة الصديق، أو يقذف السيدة الصديقة فهو كافر لمخالفته القواطع المعلومة من الدين بالضرورة اھ( كتاب النكاح، فروع طلق امرأته تطليقتين،ج: 3،ص: 46،مط: دار الفکر بیروت)
و فی البدائع: ومنها أن لا تكون المرأة مشركة إذا كان الرجل مسلما، فلا يجوز للمسلم أن ينكح المشركة؛ لقوله تعالى: {ولا تنكحوا المشركات حتى يؤمن} (البقرة: 221)اھ (كتاب النكاح، ج: 2،ص: 270،مط: دار الکتب العلمیہ)
و فیه ایضاً: أن الأصل أن لا يجوز للمسلم أن ينكح الكافرة؛ لأن ازدواج الكافرة والمخالطة معها مع قيام العداوة الدينية لا يحصل السكن والمودة الذي هو قوام مقاصد النكاح اھ( كتاب النكاح،ج: 2،ص: 270،مط: دار الکتب العلمیہ)