کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید کے بھائی بکر نے خالدہ کا دودھ پیا ہوا ہے، اب زید خالدہ کی بیٹی فاطمہ سے نکاح کر سکتا ہے یا نہیں؟ کیونکہ فاطمہ زید کے بھائی بکر کی رضائی بہن بنتی ہے۔
واضح ہو کہ سگے بھائی کی رضاعی بہن سے نکاح کرنا درست ہے، لہذا بکر کے لیئے تو خالدہ کی کسی بھی بیٹی کیساتھ نکاح جائز نہیں، البتہ اگر زید نے خالدہ کا دودھ نہ پیا ہواور نہ ہی خالدہ کی مذکور بیٹی مسماۃ فاطمہ نے زید کی والدہ کا دودھ پیا ہو ،تو زید کا فاطمہ سے نکاح کرنا شرعا جائز اور درست ہوگا۔
کما فی الدر المختار: (وتحل أخت أخيه رضاعا) يصح اتصاله بالمضاف كأن يكون له أخ نسبي له أخت رضاعية، وبالمضاف إليه كأن يكون لأخيه رضاعا أخت نسبا وبهما وهو ظاهر اھ ( باب الرضاع، ج: 3، ص: 217، ط: سعید )
وفی الھندیہ: وتحل أخت أخيه رضاعا كما تحل نسبا مثل الأخ لأب إذا كانت له أخت من أمه يحل لأخيه من أبيه أن يتزوجها كذا في الكافي (کتاب الرضاع، ج: 1، ص: 343، ط: ماجدیہ )