نکاح

بچپن میں کروائے ہوئے نکاح کو فسخ کروانے کا حکم

فتوی نمبر :
91975
| تاریخ :
2026-02-10
معاملات / احکام نکاح / نکاح

بچپن میں کروائے ہوئے نکاح کو فسخ کروانے کا حکم

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ،کیا فرماتے ہیں علماء ِکرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص نے اپنے لڑکے کا نکاح صغرِ سنی میں اپنے بھائی کی بچی سے کرایا، جبکہ وہ اس وقت چھوٹی تھی ،اس وجہ سے کہ لڑکے کا والد عالم اور شریف انسان ہے،اور لڑکا بھی اس وقت مدرسہ میں پڑھتا تھا، مگر بعد بلوغ کے لڑکے نے مدرسہ چھوڑ دیا،اور آوارہ ہوگیا،فسق و فجور اور ترکِ صلوٰۃ بھی کر رہا تھا، مگر اب وہ کافی حد تک سدھر گیا ہے،لہٰذا بچی کا والد اس نکاح کو فسخ کرنا چاہتا ہےکہ لڑکا اب اس کا کفوء نہیں بن سکتا، لہٰذا آپ حضرات سے التماس ہے کہ قرآن و سنت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہوکہ کفائت کا اعتبار ابتداءِ نکاح میں ہوتا ہے، اس کے بعد نہیں، لہٰذا صورتِ مسئولہ میں مذکور لڑکا اگر نکاح کے وقت لڑکی کا کفو تھا ، اور لڑکی کے والد نے اپنی مرضی سے پسند کرکے اس سے نکاح کروایا ہو تو یہ نکاح درست منعقد ہوچکا ہے، لہٰذا اب لڑکے کے نماز وغیرہ چھوڑنے کی وجہ سے لڑکی کے والد کو یہ نکاح فسخ کرانے کا شرعاً اختیار نہ ہوگا، تاہم اگر لڑکی کا والد اس لڑکے کے فسق و فجور اور بعد کی ازدواجی زندگی کے حوالے سے مطمئن نہیں ، تو دونوں فریق باہمی رضامندی سے طلاق یا خلع کے ذریعے اس نکاح کو ختم کرسکتے ہیں۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الدرالمختار: (الكفاءة معتبرة) في ابتداء النكاح للزومه أو لصحته( باب الولی، ج:3،ص:66،ط:سعید)
و فی الھدایۃ: ( ‌فإن ‌زوجهما الأب أو الجد ) يعني الصغير والصغيرة ( فلا خيار لهما ) بعد بلوغهما لأنهما كاملا الرأي وافرا الشفقة فيلزم العقد بمباشرتهما كما إذا باشراه برضاهما بعد البلوغ (باب فی الاولیاء والاکفاء،ج:2،ص:338، م: رحمانیۃ)
وفیھاایضاً: ‌لأن ‌الولاية ‌مقيدة بشرط النظر فعند فواته يبطل العقد(باب فی الاولیاء والاکفاء،ج: 2، ص: 343، م:رحمانیۃ)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد عمر فاروق غفور عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 91975کی تصدیق کریں
0     26
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات