۱۔ شوہر اور بیوی جب غسل کرے تو انزال سے پہلے کس صورت میں غسل فرض ہو جاتا ہے؟
۲۔اگر اپنی شرم گاہ بیوی میں داخل نہ کی ہو اور شوہر کا انزال ہو جائے اور منی بیوی کے جسم کے کسی بھی حصے میں لگ جائے ، تو کیا اس صورت میں بیوی پر غسل کرنا فرض ہوگا یا پھر متعلقہ جگہ کو صرف پانی سےدھونا ہوگا ؟
۳۔بیوی کو اپنی شرم گاہ ہاتھ میں دینے میں کوئی حرج تو نہیں ہے؟
۴۔بیوی کے پستانوں کے بیچ میں شرم گاہ رکھنے میں کوئی حرج تو نہیں ہے؟
۵۔وضو کے دوران اگر جسم کا کوئی حصہ بھول سے رہ جائے اور پورا وضو کرچکے اور وضو کے آخر میں یاد آجائے ،تو کیا وضو نئے سرے سے کرنا ہوگا یا پھر اسی حصے کو دھونا ہوگا؟ اور اگر پورا وضو کر چکے ہوں اور جسم کو ہم پونچھ رہے ہوں ، اسی دوران یاد آجائے تو اس صورت میں کیا کرنا ہوگا؟
۱۔میاں بیوی کا التقاءِ ختانین (مرد کے حشفہ کا عورت کی شرم گاہ میں داخل ہونے) سے شرعاً دونوں پر غسل واجب ہوجاتا ہے۔
۲۔اس صورت میں بیوی پر صرف اسی جگہ کا دھونا لازم ہے ، جہاں نجاست لگی ہو ۔
۳ ،۴۔کوئی حرج نہیں۔
۵۔وضو لوٹانے کی ضرورت نہیں ، صرف اسی حصے کو دھویا جائے جو خشک رہ گیا ہو ۔
فی الهدایة : و التقاء الختانین من غیر إنزال ، لقوله علیه السلام إذا إلتقی الختانان و غابت الحشفة وجب الغسل أنزل أو لم ینزل اھ (۱/ ۳۱)۔
و فیہا ایضاً : و المعانی الموجبة للغسل إنزال المنی علی وجه الدفق و الشهوة من الرجل و المرأة حالة النوم و الیقظة اھ (۱/ ۳۱)۔
و فی الفتاوى الهندية : قال أبو يوسف - رحمه الله تعالى - : سألت أبا حنيفة - رحمه الله تعالى - عن رجل يمس فرج امرأته و هي تمس فرجه لتحرك آلته هل ترى بذلك بأسا ؟ قال : لا ، اھ (5/ 328)۔
و فی حاشية ابن عابدين : لأنه يجوز له أن يلمس بجميع بدنه حتى بذكره جميع بدنها إلا ما تحت الإزار فكذا هي لها أن تلمس بجميع بدنها إلا ما تحت الإزار جميع بدنه حتى ذكره اھ (1/ 293)۔
و فی خلاصة الفتاویٰ : و لو توضأ و نسی مسح خفیه ثم افاض الماء فأصاب ظاهر خفیه و باطنهما یجزیه من المسح اھ (۱/ ۲۸)۔