السلام علیکم
مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کیا فرماتے ہیں کہ
ایک عورت کے اوپر حج فرض ہے یانہیں اس کے پاس اتنی مالیت میں نقدی کیش اور سونے کے زیورات ہیں جس سے باسانی حج ادا کیا جا سکتا ہے
لیکن اس کے ساتھ جانے والا ہے اس کا کوئی محرم نہیں بن رہا اس کے پاس جو نقدی اور سونے کے زیورات ہیں وہ اتنی مالیت کے ہیں کہ اگر وہ اپنے ساتھ بھائی یا کسی محرم کو بھی حج کروائے تو کروایا جا سکتا ہے یعنی دو لوگوں کے حج کرنے پہ جو اخراجات آتے ہیں اس سے زیادہ مالیت اس کے پاس نقدی اور زیورات کی صورت میں ہے ۔ کیا اس صورت میں اس کے اوپر حج فرض ہوگا یا نہیں ۔شرع کی روشنی میں جواب دے کر عند اللہ ماجور ہوں
صورت مسئولہ میں مذکور خاتون کے پاس اگر اتنا مال موجود ہو کہ جس سے وہ خاتون اور اسکا محرم حج کرسکیں،اور محرم بھی اس مبارک سفر پر ساتھ جانے کیلئےآمادہ ہو، تو ایسی صورت میں مذکور خاتون پر حج ٖفرض ہے، جسے ادا نہ کرنے کی صورت میں وہ شرعاً گناہ گار ہوگی،لیکن اگر اس خاتون کا کوئی محرم رشتہ دار حج پر ساتھ جانے کیلئے تیار نہ ہو،تو ایسی صورت میں مذکورہ خاتون کیلئے اکیلے سفر حج کرنا شرعاً جائز نہیں،بلکہ ایسی صورت میں اس پر لازم ہے کہ وہ حج بدل کی وصیت کردے،تاکہ انتقال کی صورت میں اس کی طرف سے حج بدل کیا جاسکے۔
کما فی الدر: (و) مع (زوج أو محرم) ولو عبدا أو ذميا أو برضاع (بالغ) قيد لهما كما في النهر بحثا (عاقل والمراهق كبالغ) جوهرة (غير مجوسي ولا فاسق) لعدم حفظهما (مع) وجوب النفقة لمحرمها (عليها) لأنه محبوس (عليها)،(کتاب الحج،ج:2،ص:464،ط:سعید)