السلام علیکم! جب میں بچہ تھا تو پیدائش کے بعد میں نے صرف ایک مرتبہ اپنی خالہ (یعنی میری والدہ کی بہن) کا دودھ پیا تھا، اب میری خالہ اپنی بیٹی کا نکاح مجھ سے کرانا چاہتی ہیں، میں یہ دریافت کرنا چاہتا ہوں:
کیا پیدائش کے بعد ایک مرتبہ خالہ کا دودھ پینا شریعتِ اسلامی کے مطابق اس نکاح کو ناجائز (حرام) بنا دیتا ہے؟اگر یہ نکاح جائز نہیں ہے تو ہمیں کیا کرنا چاہیئے؟آپ کی رہنمائی اور تفصیلی وضاحت کا شکر گزار ہوں۔ شکریہ!
واضح ہو کہ حرمتِ رضاعت کے ثبوت کےلیےبچے کا مدت ِرضاعت( یعنی اڑھائی سال کی عمر) میں پہلےایک مرتبہ دودھ پینا کافی ہے،خواہ ایک ہی قطرہ کیوں نہ ہو،لہذا سائل نے اگر مدت رضاعت میں اپنی خالہ کا دودھ پیا ہو ، تو سائل اس کا رضاعی بیٹا اور اسکی تمام اولاد کا رضاعی بھائی بن چکا ہے، اب سائل کے لیے مذکورہ خالہ(رضاعی ماں) کی کسی بھی بیٹی کے ساتھ نکاح کرنا جائز نہیں ،جس سے احتراز لازم ہے۔
کما قال اللہ تعالی: حُرِّمَتْ عَلَیْكُمْ اُمَّهٰتُكُمْ وَ بَنٰتُكُمْ وَ اَخَوٰتُكُمْ وَ عَمّٰتُكُمْ وَ خٰلٰتُكُمْ وَ بَنٰتُ الْاَخِ وَ بَنٰتُ الْاُخْتِ وَ اُمَّهٰتُكُمُ الّٰتِیْۤ اَرْضَعْنَكُمْ وَ اَخَوٰتُكُمْ مِّنَ الرَّضَاعَةِ (الآیة:23،سورہ النسآء)
وفي سنن ابي داؤد: عن عروة عن عائشة زوج النبي صلى الله عليه وسلم أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: "يحرم من الرضاعة ما يحرم من الولادة(باب يحرم من الرضاعة ما يحرم من النسب،ج:1،ص:866،ط:بشری)
وفي الدر المختار: فيحرم منه اي بسببه ما يحرم من النسب اھ (باب الرضاع ج 3 ص 213 ط سعيد)
وفي الهندية: قليل الرضاع وكثيره اذا حصل في مدة الرضاع تعلق به التحريم الى قوله يحرم على الرضيع ابواه من الرضاع واصولهما وفروعهما من النسب والرضاع جميعا اھ (كتاب الرضاع ج 1 ص 343 ط ماجدية)
وفي الهداية: قال قليل الرضاع وكثيره سواء اذا حصل في مدة الرضاع تعلق به التحريم اھ (كتاب الرضاع ج 2 ص 369 ط قديمي كتب خانه)