کیا فرماتے ہیں مفتیا ن کرام ا س مسئلہ کے بارے میں کہ زینب نے سدریٰ کے درمیان والے بیٹوں کو دودھ پلایا ،جبکہ سدریٰ نے صرف زینب کے بڑے بیٹے عمرو کو دودھ پلایا، باقی کسی کو نہیں پلایا، اب زینب کے چھوٹے بیٹے کا نکاح سدریٰ کی چھوٹی بیٹی سے ہوسکتا ہے یا نہیں ؟ شریعت کے روشنی میں جواب عنایت فرمائیں۔
سوال میں ذکر کردہ تفصیل کے مطابق زینب کے چھوٹے بیٹے نے اگر مدت رضاعت میں سدریٰ کا دودھ نہ پیا ہو ،اور نہ ہی سدریٰ کی چھوٹی بیٹی نے زینب کا دودھ پیا ہو تو ایسی صورت میں زینب کے چھوٹے بیٹے کا سدری کے چھوٹی بیٹی سے نکاح کرنا شرعاً جائز اور درست ہوگا۔
کما فی الفتاوی التاتارخانیة:ولو ارضعت أم البنات واحدا من البنین وارضعت التی لھا البنون واحدۃ من البنات لایجوز لذلک الابن أن یتزوج بتلک المرأۃ ولا باحد بناتھا وجاز لاخوتہ أن یتزوجوا بنات تلک المرأۃ الا البنت التی أرضعتھا أمھم الخ (3/231)۔
وفی الدرالمختار: (وتحل أخت أخيه رضاعا) يصح اتصاله بالمضاف كأن يكون له أخ نسبي له أخت رضاعية، وبالمضاف إليه كأن يكون لأخيه رضاعا أخت نسبا وبهما وهو ظاهر. (و) كذا (نسبا) بأن يكون لأخيه لأبيه أخت لأم، فهو متصل بهما لا بأحدهما للزوم التكرار كما لا يخفى. الخ (3/217)۔