السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
امید ہے آپ خیریت سے ہوں گے۔ میرا ایک سوال "نفسیاتی مشق" (psychological exercise) کے بارے میں ہے۔آج کل کچھ ماہرینِ نفسیات ایک عمل تجویز کرتے ہیں جسے Mirror Work یا Mirror Self Talk کہا جاتا ہے۔ اس میں انسان آئینے کے سامنے کھڑا ہو کر اپنے آپ سے بات کرتا ہے، مثلاً:
• اپنی غلطیوں کا جائزہ لینا
• خود کو حوصلہ دینا
• مثبت جملے کہنا
• جذبات کو سمجھنا
• یا خود کو ذہنی طور پر مضبوط کرنا
یہ عمل کسی عبادت، ذکر، مراقبہ، یا روحانی ریاضت کے طور پر نہیں کیا جاتا، بلکہ صرف نفسیاتی بہتری، خود اعتمادی، اور ذہنی سکون کے لیے کیا جاتا ہے۔میرا سوال یہ ہے:کیا آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر اپنے آپ سے بات کرنا، بطور نفسیاتی مشق، شریعتِ اسلام میں جائز ہے؟اگر اس میں کوئی شرعی قباحت ہو تو براہِ کرم وضاحت فرما دیں۔جزاکم اللہ خیرا!
واضح ہوکہ شرعی شرائط کو ملحوظ رکھتے ہوئے علاج معالجہ کرنا شرعا مطلوب ہے،اور احادیث میں بھی اس کی ترغیب وارد ہوئی ہے،اس لیے وہ اسباب جن سے اچھے نتائج کا تجربہ یا غالب گمان ہواور وہ شرعا جائز بھی ہوں ،تو انہیں علاج کے طور پر اختیار کرنے میں کوئی حرج نہیں ،لہذا سوال میں مذکور نفسیاتی مشق کو بطورِ علاج اختیار کرنے میں شرعاً کوئی قباحت نہیں ۔
کمافی سنن ابی داؤد: عن أبي الدرداء، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إن الله أنزل الداء والدواء، وجعل لكل داء دواء، فتداووا ولا تداووا بحرام (باب في الأدوية المكروهة،ج: 2،ص: 1420،ط: بشری)
وفي الھندية: الاشتغال بالتداوي لا بأس به إذا اعتقد أن الشافي هو الله تعالى وأنه جعل الدواء سببا أما إذا اعتقد أن الشافي هو الدواء فلا كذا في السراجية اھ(کتاب الکراھیة،الباب الثامن عشر في التداوي والمعالجات،ج:5،ص:354،ط:ماجدیة)
وفی البحر الرائق: قال رحمه الله (والحقنة) يعني تجوز للتداوي وجاز أن يظهر إلى ذلك الموضع للضرورة لقوله صلى الله عليه وسلم «لكل داء دواء وإذا أصبت دواء لداء برئ بإذن الله تعالى» رواه مسلم (الی قوله) ولنا ما قدمنا من الأحاديث ولا جناح على من يتداوى إذا كان يعتقد أن الشافي هو الله تعالى وما ورد من النهي عن الدواء إذا كان يعتقد أن الشفاء من الدواء وهو محل الكراهة اھ(کتاب الکراھیة،ج:8،ص:208،ط:رشیدیة)۔