نکاح

نکاح میں تین دفعہ" قبول ہے " کہنا کیا ضروری ہے؟

فتوی نمبر :
91591
| تاریخ :
2026-02-01
معاملات / احکام نکاح / نکاح

نکاح میں تین دفعہ" قبول ہے " کہنا کیا ضروری ہے؟

اگر نکاح خوان نے لڑکی کو کہا کہ: " فلاں بنت فلاں اپ نے اپنے اپ کو اتنے مہر کے عوض فلاں بن فلاں کو دیا ہے" اور لڑکی نے پہلی دفعہ جواب میں کہا: "قبول ہے" دیا ہے نہیں کہا اور دوسری دفعہ جواب میں کہا"جی" اور تیسری دفعہ جواب میں بھی کہا"جی" ۔لڑکے نے تینوں دفعہ جواب میں کہا: "جی میں نے قبول کیا"۔تو کیا نکاح ہو جائے گا؟گزارش ہے کہ میں پریشان ہوں مجھے ابھی جواب دےدیں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سوال میں ذکر کردہ تفصیل کے مطابق نکاح خواں کی جانب سے ایجاب کراتے وقت سائلہ کا فقط "قبول ہے " کہنا بھی کافی ہے اور یہ نکاح درست منعقد ہوچکا ہے ، اس لیے بلا وجہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الہندیة: (وأما ركنه) فالإيجاب والقبول، كذا في الكافي والإيجاب ما يتلفظ به أولا من أي جانب كان والقبول جوابه هكذا في العناية الخ(کتاب النکاح، باب الاول فی تفسیر النکاح،ج: ١، ص: ٢٦٧، مط: ماجدية )
وفي الدر المختار: (وينعقد) متلبسا (بإيجاب) من أحدهما (وقبول) من الآخر (وضعا للمضي) الخ
وفي الهداية: قال: "النكاح ينعقد بالإيجاب والقبول بلفظين يعبر بهما عن الماضي"الخ(كتاب النكاح، ج: ١، ص: ١٨٥، مط: دار أحياء التراث العلمي)
وفي التاتارخانية: قال القدوري في كتابه: عقد النكاح ينعقد بلفظين يعبر بهما عن الماضي، نحو أن تقول المرأة "زوجت نفسي"ويقول الرجل:قبلت (الى قوله) وكذا القاضي اذا قال " زوجت هذه الصغيرة من هذا الصغير الخ(كتاب النكاح ، ج:٤، ص: ٥، مط: رشيدية)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
اظہر امین عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 91591کی تصدیق کریں
0     9
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات