اگر نکاح خوان نے لڑکی کو کہا کہ: " فلاں بنت فلاں اپ نے اپنے اپ کو اتنے مہر کے عوض فلاں بن فلاں کو دیا ہے" اور لڑکی نے پہلی دفعہ جواب میں کہا: "قبول ہے" دیا ہے نہیں کہا اور دوسری دفعہ جواب میں کہا"جی" اور تیسری دفعہ جواب میں بھی کہا"جی" ۔لڑکے نے تینوں دفعہ جواب میں کہا: "جی میں نے قبول کیا"۔تو کیا نکاح ہو جائے گا؟گزارش ہے کہ میں پریشان ہوں مجھے ابھی جواب دےدیں۔
سوال میں ذکر کردہ تفصیل کے مطابق نکاح خواں کی جانب سے ایجاب کراتے وقت سائلہ کا فقط "قبول ہے " کہنا بھی کافی ہے اور یہ نکاح درست منعقد ہوچکا ہے ، اس لیے بلا وجہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔
کما فی الہندیة: (وأما ركنه) فالإيجاب والقبول، كذا في الكافي والإيجاب ما يتلفظ به أولا من أي جانب كان والقبول جوابه هكذا في العناية الخ(کتاب النکاح، باب الاول فی تفسیر النکاح،ج: ١، ص: ٢٦٧، مط: ماجدية )
وفي الدر المختار: (وينعقد) متلبسا (بإيجاب) من أحدهما (وقبول) من الآخر (وضعا للمضي) الخ
وفي الهداية: قال: "النكاح ينعقد بالإيجاب والقبول بلفظين يعبر بهما عن الماضي"الخ(كتاب النكاح، ج: ١، ص: ١٨٥، مط: دار أحياء التراث العلمي)
وفي التاتارخانية: قال القدوري في كتابه: عقد النكاح ينعقد بلفظين يعبر بهما عن الماضي، نحو أن تقول المرأة "زوجت نفسي"ويقول الرجل:قبلت (الى قوله) وكذا القاضي اذا قال " زوجت هذه الصغيرة من هذا الصغير الخ(كتاب النكاح ، ج:٤، ص: ٥، مط: رشيدية)