کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے با رے میں کہ شا دی شدہ مرد کسی اور شا دی شدہ عورت سے وطی کرے اگر حمل ٹھہر گیا یا نہیں ٹھہرا، ان دونوں صورتوں میں یہ اپنی اولاد کاایک دوسرے سے نکاح کروا سکتے ہیں یا نہیں ۔رہنمائی فرمائیں ۔
جزاک اللہ خیرا۔
واضح ہو کہ شادی شدہ مرد کا کسی شادی شدہ عورت سے زنا و بدکاری کا ارتکاب کرنا ایک سخت ترین گناہ ہے جس کے ثابت ہونے پر اسلامی قوانین نافذ ہونے کی صورت میں مرد و عورت دونوں پر سنگساری کی سزا جاری ہوتی ہے اور اس عمل کی وجہ سے دونوں کے اصول و فروع بھی ایک دوسرے پر حرام ہوجاتے ہیں ،تاہم ان کی أولاد کا آپس میں ایک دوسرے سے نکاح کرنا اگرچہ شرعاً درست ہے، لیکن اگر اس رشتہ قائم ہونے کے بعد ان دونوں کے درمیان اس گناہ میں مزید ملوث ہونے کے قوی خدشات ہوں تو مزید رشتہ داری بنانے سے احتراز چاہیے ۔
کما فی ردالمحتار: (قوله: و حرم أيضًا بالصهرية أصل مزنيته) قال في البحر: أراد بحرمة المصاهرة الحرمات الأربع حرمة المرأة على أصول الزاني وفروعه نسبًا و رضاعًا و حرمة أصولها و فروعها على الزاني نسبًا و رضاعًا كما في الوطء الحلال و يحلّ لأصول الزاني و فروعه أصول المزني بها و فروعها،ج: 3،ص: 32،مط: سعید۔)
و فی البحر: ويحل لأصول الزاني وفروعه أصول المزني بها وفروعها. اهـ،ج: 3،ص: 108،مط: دارالکتاب الاسلامی۔)