السلام علیکم!
سوال لمبا لیکن بہت زیادہ ضروری ہے۔میں بیرونِ ملک پڑھائی کے غرض سے جانا چاہتا ہوں، جہاں 30 سے 35 لاکھ کا خرچہ ہے، جو ایک متوسط گھرانہ بڑی مشکل سے جمع کرتا ہے۔ اس کے علاوہ 70 سے 80 لاکھ کی بینک اسٹیٹمنٹ بھی درکار ہوتی ہے، جو کہ بہت مشکل کام ہے اور آج کل کوئی اتنے پیسے دیتا بھی نہیں۔
میں نے تین چار لوگوں سے رابطہ کیا، وہ پیسے دیتے ہیں لیکن اس پر فکس فیصد لیتے ہیں۔ تو کیا مجبوری کی حالت میں اس طرح کرنا جائز ہے یا نہیں؟
اور اگر نہیں، تو اسلامی طور پر ایسا کیا طریقہ ہے کہ وہ سود میں نہ آئے؟
(انویسٹرز کہتے ہیں کہ ہم آپ کو سروس دے رہے ہیں اور ہم اس کے چارجز لے رہے ہیں، اس لیے یہ جائز ہے۔)
نیز ایک بینک والے کہہ رہے ہیں کہ آپ 20 لاکھ اکاؤنٹ میں رکھیں، باقی ہم ڈال دیں گے اور اس پر سروس چارجز لیں گے، یہ کیسا ہے؟
واضح ہو کہ قرض پر ہر قسم کے مشرو ط اور معروف نفع حاصل کرنا شرعاً سود کہلاتا ہے، جو نصوص قرآن و حدیث کی رو سے حرام اور ناجائز ہے ، لہذا سائل کا لوگوں سے قرض رقم لیکر اس پر اضافی رقم لینا یا بینک کا سائل کے اکاؤنٹ میں سے پیسے رکھوا کر اس پر سروس چارجز کے نام سے فیس وصول کرنا سود کے زمرے میں داخل ہو نے کی وجہ سے شرعاً ناجائز اور حرام عمل ہے، جس سے سائل کو اجتنا ب لازم ہے، جبکہ سائل اپنی مذکور ضرورت پوری کرنے کے لئے اگر کسی سے قرض حسن لینے کی کوشش کرے یا جس بندے یا ادرے سے قرض وصول کررہا ہے ان سے بیرون ملک جا نے کے ڈاکومنٹ کی تیاری وغیرہ قابل معاوضہ خدمات حاصل کرے اور اس کے عوض میں انہیں فیس ادا کرےتو ایسا کرنے سے شرعاً معاملہ جائز اور درست ہو گا ۔
وکما فی احکام القرآن :والربا الذي كانت العرب تعرفه وتفعله إنما كان فرض الدراهم والدنانير إلى أجل بزيادة على مقدار ما استقرض على ما يتراضون به، ولم يكونوا يعرفون البيع بالنقد وإذا كان متفاضلا من جنس واحد. هذا كان المتعارف المشهور بينهم، ولذلك قال الله تعالى: {وما آتيتم من ربا ليربو في أموال الناس فلا يربو عند الله} [الروم: 39] فأخبر أن تلك الزيادة المشروطة إنما كانت ربا في المال العين; لأنه لا عوض لها من جهة المقرض،اھ( مطلب فی دہن المتنجس یجوز الانتفاع ، ج: 1 ص : 563 ناشر دار الکتب العلمیۃ)
وفی فتح القدیر : قال: كانوا يكرهون كل قرض جر منفعة.وفي الفتاوى الصغرى وغيرها: إن كان السفتج مشروطا في القرض فهو حرام، والقرض بهذا الشرط فاسد، ولو لم يكن مشروطا جاز.اھ( کتاب ادب القاضی ج: 7 ص : 251 ناشر: شرکۃ مکتبۃ )
سونا قرض دے کر بعد میں کچھ کی ادائیگی کے لئے سونے اور بقیہ کی ادائیگی کے لئے نقد رقم کی شرط لگانا
یونیکوڈ سود 1