ایزی پیسہ اکاؤنٹ ہولڈرز کے لیے ایزی پیسہ والے ایزی کیش کے نام سے قرضے کا سہولت فراہم کرتی ہے مگر وہ اس پہ سروس چارجز کاٹتی ہے پوچھنا یہ ہے کہ کیا یہ سود کے ذمرے میں نہیں آتا؟
واضح ہو کہ کیش رقم پر کسی بھی طرح اضافی رقم وصول کرنا شرعاسود کے زمرے میں آتاہے،لہذا ایزی پیسہ اکاونٹ ہولڈر کو ایزی کیش کے نام سے قرض کی سہولت فراہم کرنے پر جب وصول کردہ رقم سےاضافی رقم اداکرنی پڑتی ہے، تو وہ بلاشبہ سود کے زمرے میں آتاہے، اس لیے اس طرح سہولت حاصل کرنا شرعاجائز نہیں ، اس سے اجتناب لازم ہے۔
"«ونهى رسول الله - صلى الله عليه وسلم - عن قرض جر منفعة» وسماه ربا"
(المبسوط للسرخسي14/35 ط:دار المعرفۃ بیروت)
"وفي الاشباه كل قرض جر نفعا حرام، فكره للمرتهن سكنى الموهونة بإذن الراهن."
(الدر المختار شرح تنوير الأبصار وجامع البحار (ص: 430)
"قال الكرخي في مختصره في كتاب الصرف وكل قرض جر منفعة لا يجوز مثل أن يقرض دراهم غلة على أن يعطيه صحاحا أو يقرض قرضا على أن يبيع به بيعا؛ لأنه روي أن كل قرض جر منفعة فهو ربا، وتأويل هذا عندنا أن تكون المنفعة موجبة بعقد القرض مشروطة فيه"
(تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق وحاشية الشلبي6/29 ط:المطبعۃ الکبری الامیریۃ)
سونا قرض دے کر بعد میں کچھ کی ادائیگی کے لئے سونے اور بقیہ کی ادائیگی کے لئے نقد رقم کی شرط لگانا
یونیکوڈ سود 1