عنوان: کمپنی کے پراویڈنٹ فنڈ پر سود کی جمع شدہ رقم حلال ہے یا حرام؟
فتو یٰ سیریل نمبر 25053 تاریخ 1/22/2015 کی رو سے ہماری تنخواہ میں سے جو کٹوتی ہوتی ہے اور کمپنی اپنی طرف سے جو حصہ ڈالتی ہے یہ دونوں جبری ہیں لیکن ان دونوں پر جو سالانہ رقم ملتی ہے ، وہ کمپنی نے اختیاری کی ہوئی ہے، تو آیا یہ سالانہ رقم میرے لئے حلال ہے یا حرام؟ اگر حرام ہے تو کیا وہ رقم میں کمپنی سے وصول کرکے کسی مستحق رشتہ دار کو دے سکتا ہوں؟
صورتِ مسئولہ میں اگر یہ کٹوتی جبراً ہو ،تو ایسی صورت میں اصل جمع شدہ رقم(تنخواہ اور کمپنی کی طرف سے جمع کردہ رقم ) لینا سائل کیلئے شرعاً جائز ہے ، البتہ مذکور دونوں رقموں پر اضافی جو سودی رقم ملازمین کو ملتی ہے، اگر کمپنی از خود وہ رقم وصول کرکے اپنے مرکزی فنڈ میں جمع کرنے کے بعد ملازمین کو دیتی ہو تو اس کو لینے کی گنجائش ہے، جبکہ سودی اداروں میں رقم رکھوا کر سود وصول کرنے کا گناہ کمپنی ماکان پر ہوگا،ملازمین گناہ گار نہ ہوں گے۔
کما فی البحر الرائق : (قوله والأجرة لا تملك بالعقد)الی قولہ (قوله بل بالتعجيل أو بشرطه أو بالاستيفاء أو بالتمكن) يعني لا يملك الأجرة إلا بواحد من هذه الأربعة و المراد أنه لا يستحقها المؤجر إلا بذلك اھ(7/300)۔
سونا قرض دے کر بعد میں کچھ کی ادائیگی کے لئے سونے اور بقیہ کی ادائیگی کے لئے نقد رقم کی شرط لگانا
یونیکوڈ سود 1