کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک آدمی کے پیسے بینک میں رکھے ہوئے ہیں، اس پر بینک کی طرف سے سود ملتا ہے، اب اگر یہ آدمی سود کو نہیں لیتا تو بینک کسی اور غلط اور غیر شرعی کاموں میں استعمال کرتا ہے، یہ آدمی اس نیت سے یہ رقم بینک سے لیتا ہے تاکہ اس کے مصرف میں خرچ کرے یا ضائع کردے اس کیلئے اس شخص کو لیتے وقت بینک میں دستخط کرنا پڑتا ہےتو کیا اس طرح سود کی رقم نکالنے اور دستخط کرنے سے اس شخص پر کوئی گناہ ہوگا؟
بینک کے ایسے کھاتہ میں رقم رکھنا جس میں سود لگتا ہو قطعا ناجائز اور حرام ہے جس سے احتراز لازم ہے۔ ٭
تاہم اگر غلط فہمی یا لاعلمی کی بناء پر ایسے کھاتہ میں محض حفاظت کی غرض سے رقم رکھوادی ہو اس پر ’’انٹریسٹ‘‘ کے نام سے ملنے والے سود کا حکم یہ ہے کہ اسے لیکر تلف کردیا جائے یا بغیر نیت ثواب کسی مستحق کو اس پر مالک بنادیا جائے، چنانچہ اس سلسلہ میں بینک سے رقم نکلواتے وقت اگر دستخط کرنے کی ضرورت پڑ جائے تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں۔ ٭
٭ وفی المسلم: لعن رسول اللہ ﷺ آکل الربا وموکلہٗ وکاتبہٗ وشاہدیہ وقال ہم سواء اھـ (ج۲، ص۲۷)۔
٭ وفی معارف السنن: من ملک بملک خبیث ولم یمکنہ الرد الی المالک فسبیلہ التصدق علی الفقراء۔ (ج۱، ص۳۴) واللہ اعلم
سونا قرض دے کر بعد میں کچھ کی ادائیگی کے لئے سونے اور بقیہ کی ادائیگی کے لئے نقد رقم کی شرط لگانا
یونیکوڈ سود 1