ہمارے والد صاحب نے بینک سے تجارت کے لئے لون لیا ہے، ہم عربی سوم میں پڑھتے ہیں، ہم نے انہیں پہلے بہت دفعہ سمجھایا کہ یہ جائز نہیں ہے، لیکن وہ کہتے ہیں کہ میں نے ایک مفتی سے مسئلہ پوچھا ہے، حالانکہ اس کے متعلق ہم نے تمام فتاویٰ دیکھے کہیں بھی جواز کی صورت نہیں ملتی۔ اب ہم پریشان ہیں کہ اب انہیں لون مل گیا ہے ،اور ہم انہیں کے ساتھ رہتے ہیں ،ہم کیا کریں اس خیانت سے کیسے بچیں؟ براہ ِمہربانی جلد از جلد جواب عنایت فرمائیں۔
واضح ہو کہ کسی سودی بینک سے لون لینے کی صورت میں بینک کو اصل رقم واپس کرتے وقت سود ادا کرنا پڑتا ہے ، جبکہ شریعتِ مطہّرہ میں جس طرح سود لینا حرام ہے ، ٹھیک اسی طرح سود دینا بھی حرام ہے ، اس لئے سائل کے والد کو اس سے نکلنے کی پوری کوشش کے ساتھ اس پر توبہ و استغفار بھی لازم ہے ، البتہ ان پیسوں سے جو کاروبار کیا ہے اگر وہ حلال ہے ، تو اس سے حاصل شدہ نفع جائز اور حلال ہوگا ۔
قال الله تعالى : {وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا } [البقرة: 275]
و في صحيح مسلم: عن جابر، قال: «لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم آكل الربا، ومؤكله، وكاتبه، وشاهديه»، وقال: «هم سواء» اھ (3/ 1219)۔
و في فقه المعاملات المالية : كل قرض شرط فيه ان يزيده المقترض عند رده فهو حرام بغیر خلاف اھ (ص: ۱۹۴)۔
و في الاشباه والنظائر : يجوز للمحتاج الاستقراض بالربح اھ (ص: ۹۲)۔
سونا قرض دے کر بعد میں کچھ کی ادائیگی کے لئے سونے اور بقیہ کی ادائیگی کے لئے نقد رقم کی شرط لگانا
یونیکوڈ سود 1