السلام علیکم امید ہے کہ آپ بخیر و عافیت سے ہونگے ! کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام مندرجہ ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ اگر پانچ سو یا ہزار روپے کا نوٹ پھٹ جائے یا کسی وجہ سے نہ چلے تو ہمارے یہاں بھٹے پر اس کی آدھی قیمت مل جاتی ہے،مثلاً پانچ سو روپے کے ڈھائی سو روپے اور ہزار روپے کے پانچ سو روپے ، تو کیا یہ طریقہ جائز ہے ( حلال ہے) یا نہیں ، برائے مہربانی قرآن و حدیث کی روشنی میں مدلل جواب مرحمت فرمائیں ۔
واضح ہو کہ ایک ہی ملک کی کرنسی (خواہ اس کے نوٹ نئے ہوں یا پھٹے پرانے ) ان کی مالیت برابر اور یکساں ہوتی ہے، اس لئے ان کا آپس میں کمی بیشی کے ساتھ تبادلہ کرنا شرعاً جائز نہیں ہوتا،
لہذا صورتِ مسئولہ میں پھٹے پرانے نوٹوں کی آدھی قیمت پر خرید وفروخت شرعاً جائز نہیں جس سے احتراز لازم ہے۔
کما قال اللہ تعالی: يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَذَرُوا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبَا إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ ۔ فَإِنْ لَمْ تَفْعَلُوا فَأْذَنُوا بِحَرْبٍ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَإِنْ تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُءُوسُ أَمْوَالِكُمْ لَا تَظْلِمُونَ وَلَا تُظْلَمُونَ۔ (سورۃ البقرة، آیت : ٢٧٨- ٢٧٩)۔
وفی صحیح المسلم: عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آكِلَ الرِّبَا، وَمُؤْكِلَهُ، وَكَاتِبَهُ، وَشَاهِدَيْهِ. وَقَالَ : " هُمْ سَوَاءٌ "۔ (رقم : ١٥٩٨)۔
وفی فقہ البیوع: ان مبادلۃ الاوراق النقدیۃ الصادرۃ من دولۃ واحدۃ ، انما تجوز بشرط تماثلھا، ولا یجوز التفاضل فیھا۔(735/2)۔
سونا قرض دے کر بعد میں کچھ کی ادائیگی کے لئے سونے اور بقیہ کی ادائیگی کے لئے نقد رقم کی شرط لگانا
یونیکوڈ سود 1