کیا فرماتے ہیں علمائے دین متین بیچ اس مسئلہ کے کہ ایک شخص نے سود کا کاروبار کیا منافع کمایا اس وقت وہ توبہ تائب ہوگیا کچھ پیسہ وہی سود والا بینک میں جمع ہے اور کچھ جہادی تنظیموں اور مذہبی جماعتوں کو دیا، موجودہ رقم مستحق غریبوں کو دے دی ہے، مستحق غریب اس رقم کو کہاں خرچ کرسکتے ہیں؟ آیا یہ رقم مستحق غریب لے سکتے ہیں یا نہیں؟ اس رقم سے غریب آدمی کاروبار کرسکتا ہے یا نہیں؟ تفصیلاً جواب دیں۔ شکریہ! المستفتی: قاری عبد الرشید عباسی
ایسے شخص کیلئے اولاً تو حکم یہ ہے کہ جن جن لوگوں سے ناجائز طور پر سود یا رشوت وغیرہ کی رقم لی ہے اگر وہ معلوم ہوں تو ہر ایک کو اُسکا حق واپس لوٹادے اور اگر زیادہ وقت گزرنے وغیرہ کی وجہ سے اُن کی تعیین ناممکن ہو تو اس صورت میں سود کی رقم کی وضاحت کئے بغیر مستحق فقراء اور مساکین کو دے سکتا ہے، فقراء و مساکین کو اس رقم کے خرچ کرنے میں اختیار ہے کہ جس مناسب مصرف میں چاہیں استعمال کریں، اس سے کاروبار کریں یا اپنے کھانے وغیرہ میں خرچ کریں بہر صورت جائز ہے، تاہم اس دینے پر ثواب کی نیت جائز نہیں، اس سے احتراز لازم ہے۔ ٭البتہ اگر فقراء و مساکین کو معلوم ہوجائے کہ یہ مالِ حرام اور سود کی قم ہے تو اس صورت میں فقراء و مساکین کا بالقصد ایسی رقم لینا بالکل جائز نہیں اس سے احتراز لازم ہے۔ ٭
٭ وفی الشامیۃ: رجلٌ رفع إلیٰ فقیر من المال الحرام شیئًا یرجو بہ الثواب یکفر۔ (ج۲، ص۲۹۲)
٭ وفی الشامیۃ: ولو علم الفقیر بذالک فدعا لہٗ وَأمَّنَ المعطی کفرا جمیعًا۔ ونظمہٗ فی الوھبانیۃ وفی شرحھا، ینبغی أن یکون کذالک لو کان المؤمّن اجنبیًا غیر المعطی والقابض، وکثیر من الناس عنہ غافلون ومن الجھّال فیہ واقعون۔ (ج۲، ص۲۹۲)
وفی معارف السنن: من ملک بملک خبیث ولم یمکنہ الردّ إلی المالک فسبیلہٗ التصدّق علی الفقراء۔ (ج۱، ص٣٤) واللہ اعلم
سونا قرض دے کر بعد میں کچھ کی ادائیگی کے لئے سونے اور بقیہ کی ادائیگی کے لئے نقد رقم کی شرط لگانا
یونیکوڈ سود 1