سود

جعلی اسٹیٹمنٹ بنوانے پر سروس چارجز کے نام سے پیسے لینا

فتوی نمبر :
91425
| تاریخ :
2026-01-27
معاملات / مالی معاوضات / سود

جعلی اسٹیٹمنٹ بنوانے پر سروس چارجز کے نام سے پیسے لینا

السلام علیکم!
سوال لمبا لیکن بہت زیادہ ضروری ہے۔میں بیرونِ ملک پڑھائی کے غرض سے جانا چاہتا ہوں، جہاں 30 سے 35 لاکھ کا خرچہ ہے، جو ایک متوسط گھرانہ بڑی مشکل سے جمع کرتا ہے۔ اس کے علاوہ 70 سے 80 لاکھ کی بینک اسٹیٹمنٹ بھی درکار ہوتی ہے، جو کہ بہت مشکل کام ہے اور آج کل کوئی اتنے پیسے دیتا بھی نہیں۔
میں نے تین چار لوگوں سے رابطہ کیا، وہ پیسے دیتے ہیں لیکن اس پر فکس فیصد لیتے ہیں۔ تو کیا مجبوری کی حالت میں اس طرح کرنا جائز ہے یا نہیں؟
اور اگر نہیں، تو اسلامی طور پر ایسا کیا طریقہ ہے کہ وہ سود میں نہ آئے؟
(انویسٹرز کہتے ہیں کہ ہم آپ کو سروس دے رہے ہیں اور ہم اس کے چارجز لے رہے ہیں، اس لیے یہ جائز ہے۔)
نیز ایک بینک والے کہہ رہے ہیں کہ آپ 20 لاکھ اکاؤنٹ میں رکھیں، باقی ہم ڈال دیں گے اور اس پر سروس چارجز لیں گے، یہ کیسا ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ قرض پر ہر قسم کے مشرو ط اور معروف نفع حاصل کرنا شرعاً سود کہلاتا ہے، جو نصوص قرآن و حدیث کی رو سے حرام اور ناجائز ہے ، لہذا سائل کا لوگوں سے قرض رقم لیکر اس پر اضافی رقم لینا یا بینک کا سائل کے اکاؤنٹ میں سے پیسے رکھوا کر اس پر سروس چارجز کے نام سے فیس وصول کرنا سود کے زمرے میں داخل ہو نے کی وجہ سے شرعاً ناجائز اور حرام عمل ہے، جس سے سائل کو اجتنا ب لازم ہے، جبکہ سائل اپنی مذکور ضرورت پوری کرنے کے لئے اگر کسی سے قرض حسن لینے کی کوشش کرے یا جس بندے یا ادرے سے قرض وصول کررہا ہے ان سے بیرون ملک جا نے کے ڈاکومنٹ کی تیاری وغیرہ قابل معاوضہ خدمات حاصل کرے اور اس کے عوض میں انہیں فیس ادا کرےتو ایسا کرنے سے شرعاً معاملہ جائز اور درست ہو گا ۔

مأخَذُ الفَتوی

وکما فی احکام القرآن :والربا ‌الذي كانت العرب تعرفه وتفعله إنما كان فرض الدراهم والدنانير إلى أجل بزيادة على مقدار ما استقرض على ما يتراضون به، ولم يكونوا يعرفون البيع بالنقد وإذا كان متفاضلا من جنس واحد. هذا كان المتعارف المشهور بينهم، ولذلك قال الله تعالى: {وما آتيتم من ربا ليربو في أموال الناس فلا يربو عند الله} [الروم: 39] فأخبر أن تلك الزيادة المشروطة إنما كانت ربا في المال العين; لأنه لا عوض لها من جهة المقرض،اھ( مطلب فی دہن المتنجس یجوز الانتفاع ، ج: 1 ص : 563 ناشر دار الکتب العلمیۃ)
وفی فتح القدیر : قال: كانوا يكرهون ‌كل ‌قرض جر منفعة.وفي الفتاوى الصغرى وغيرها: إن كان السفتج مشروطا في القرض فهو حرام، والقرض بهذا الشرط فاسد، ولو لم يكن مشروطا جاز.اھ( کتاب ادب القاضی ج: 7 ص : 251 ناشر: شرکۃ مکتبۃ )

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد زکریا الیاس عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 91425کی تصدیق کریں
0     7
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • موبائل فون میں ایڈوانس لون بیلنس Mobile Advance Loan Balance پر سود کا مسئلہ

    یونیکوڈ   اسکین   سود 4
  • جی پی فنڈ (GP Fund) پرملنے والی اضافی رقم کا حکم

    یونیکوڈ   سود 0
  • اکاونٹ کی استعمال کی شرط لگانے سے ملنے والی فری سہولت کا استعمال کرنے کی گنجائش ہے؟

    یونیکوڈ   اسکین   سود 0
  • کشف فاؤنڈیشن کی کمائی کا حکم

    یونیکوڈ   سود 1
  • ہاؤس بلڈنگ فائنانس والوں سے قرضہ لینے کا حکم

    یونیکوڈ   اسکین   سود 1
  • حرام مال کا حکم - کیا غریب کیلئے لینا جائز ہے؟

    یونیکوڈ   اسکین   سود 3
  • ایزی کیش کے نام سے قرض لینے کا حکم

    یونیکوڈ   سود 4
  • کیا سودی رقم میں مدرسہ میں دی جاسکتی ہے؟

    یونیکوڈ   سود 1
  • سودی بینک میں pls اکاونٹ کھلوانا

    یونیکوڈ   سود 0
  • بینک سے سود کی رقم کس مصرف میں خرچ کرسکتا ہے؟

    یونیکوڈ   سود 0
  • اگر ادارے میں سود سے بچنے کا اہتمام نہیں کیا جاتا اسمیں نوکری کا حکم

    یونیکوڈ   سود 0
  • سودی اداروں میں رقم رکھنے کا حکم

    یونیکوڈ   سود 0
  • قرآن و حدیث کی روشنی میں”ربوا“ کی حقیقت کیا ہے؟

    یونیکوڈ   سود 0
  • سود پر قرض لینے والے شخص کی اولاد کے لئے حکم

    یونیکوڈ   سود 0
  • کریڈٹ کارڈکی پراسنگ فیس کا حکم

    یونیکوڈ   سود 0
  • قرض پر صرف اس صورت میں اضافی رقم لینا کہ جب مقررہ وقت پر ادا نہ کیا جائے

    یونیکوڈ   سود 0
  • غیر مسلم ممالک سودی معاملہ کرنا

    یونیکوڈ   سود 0
  • قرضہ اتارنے کیلئے سودی قرض لینا

    یونیکوڈ   سود 0
  • پھٹے ہوئے نوٹ کو آدھی قیمت میں فروخت کرنا

    یونیکوڈ   سود 1
  • پراویڈنٹ فنڈ پر سود کے عنوان سے ملنے والی رقم کا حکم

    یونیکوڈ   سود 0
  • سونا قرض دے کر بعد میں کچھ کی ادائیگی کے لئے سونے اور بقیہ کی ادائیگی کے لئے نقد رقم کی شرط لگانا

    یونیکوڈ   سود 1
  • مالکِ مکان کا سودے سے پیچھے ہٹنےپر ،خریدار کا اس سےبیعانہ کے ساتھ اضافی رقم لینا

    یونیکوڈ   سود 0
  • ایزی پیسہ میں ملنے والے منافع کا حکم

    یونیکوڈ   سود 0
  • کیا صرف سود وصول کرنا حرام ہے؟

    یونیکوڈ   سود 0
  • کیا سود دینےسے آمدن حرام ہوجاتی ہے؟

    یونیکوڈ   سود 0
Related Topics متعلقه موضوعات