ہماری مسجد میں پوری بستی سے لوگ پرانے اور بوسیدہ قرآن کریم لاکر رکھ دیتے ہیں ،ہم نے زینے کے نیچے سلیپ وغیر ہ ڈلواکر قرآن وہاں رکھ دیے ہیں ،اب کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ قرآن کی بے حرمتی ا وربےادبی ہے ،کیونکہ جب زینے پر چلتے ہیں تو گو یا پیر اوپر ھوتے ہیں اور قرآن نیچے
تو کیا انکا کہنا درست ہے ؟کیا اس طرح قرآن رکھنے سے کیا قرآن کی بے ادبی ہے ؟
واضح ہو کہ اس طرح کے امور میں ادب اور بےادبی کا تعلق عرف کے ساتھ ہے اور عرف میں استعمال ہونے والے زینے کے نیچے سلیپ وغیرہ پر قرآن کریم رکھنا بے ادبی شمار ہوتی ہے اس لئے مسجد انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ مسجد میں کسی ایسی جگہ ان قرآنی نسخوں کو محفوظ کرنے کا اہتمام کریں ، جہاں بے ادبی کا اندیشہ نہ ہو۔
کمافی الھندیۃ: وضع المصحف تحت رأسه في السفر للحفظ لا بأس به وبغير الحفظ يكره، كذا في خزانة الفتاوى اھ (الباب الخامس فی آداب المسجد، ج: 5، ص: 322،ناشر: ماجدیہ)
وفی الدرالمختار: ويكره وضع المصحف تحت رأسه إلا للحفظ والمقلمة على الكتاب إلا للكتابة الخ(ج:1،ص: 177، ناشر: سعید)
موبائل میں گانے بھرے ہوئے ہوں تو اس میں تلاوت بھروا سکتے ہیں یا نہیں؟
یونیکوڈ قرآن و حدیث کے آداب و احکام 0