میرے دو سوال ہیں:
سوال نمبر :1
میری بیوی نے عدالت میں خلع کا کیس دائر کیا ہے۔ اس کیس میں ایک بات سچ ہے کہ ہماری لڑائی اور بدزبانی ہوئی ہے اور میں نے مارا بھی ہے، لیکن اس کے علاوہ باقی سب الزامات جھوٹے ہیں۔ میں خلع دینا نہیں چاہتا، میں اپنا گھر بسانا چاہتا ہوں۔ میں اپنے کیے پر شرمندہ ہوں اور میں نے معافی بھی مانگی ہے۔ اس صورت میں خلع کی کیا حیثیت ہے؟ براہِ کرم وضاحت کریں۔
سوال نمبر :2
اس کے والدین مجھے نہ اس سے بات کرنے دے رہے ہیں اور نہ ہی اس سے ملنے دے رہے ہیں۔ اس بارے میں شرعی اور اسلامی اعتبار سے ان کے لیے کیا وعید ہے؟ براہِ کرم وضاحت فرما دیں۔
واضح ہو کہ خلع بھی دیگر عقود مالیہ کی طرح ایک عقد ہے ، جس کی صحت کے لئے فریقین کی باہمی رضامندی اور با قاعدہ ایجاب و قبول شرط ہے ، جبکہ عدالتی یک طرفہ خلع میں عموماً یہ شرط مفقود ہونے کی وجہ سے ایسی ڈگری شرعا معتبر نہیں ہوتی، بلکہ اس ڈگری کے جاری ہو جانے کے باوجود نکاح بدستور قائم رہتا ہے۔لہٰذا صورتِ مسئولہ میں اگر سائل عدالت میں جا کر خلع پر رضامندی کا اظہار نہ کرے، اور نہ ہی اپنے وکیل کو خلع کا اختیار دے اور عدالت یکطرفہ خلع کی ڈگری جاری کر دے تو اس سے شرعاً سائل اور اس کی بیوی کے نکاح پر کوئی اثر نہیں پڑے گا بلکہ حسبِ سابق میاں بیوی ہی رہیں گے۔
جبکہ سائل کی بیوی کے والدین کا سائل کو اپنی اہلیہ کے ساتھ بات کرنے کی اجازت نہ دینا اسی طرح ملنے سے روکنا شرعاً ناجائز اور حرام ہے،اس کام کی وجہ سے وہ گناہ گار ہو رہے ہیں، اس لیے ان پر اللہ تعالیٰ کے حضور توبہ و استغفار لازم ہے، لہٰذا ان کو بھی چاہیے کہ اپنی بیٹی کو جلد از جلد اپنے شوہر کے ساتھ ملنے اور بات کرنے کی اجازت دیں، اور سائل کو بھی چاہیے کہ معافی تلافی کر کےآپس کے تنازعات کو ختم کرکے شریعت کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق زندگی گزارنے کی کوشش کرے۔
کما قال للہ تعالى: فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا فِيمَا افْتَدَتْ بِهِ تِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ فَلَا تَعْتَدُوهَا وَمَنْ يَتَعَدَّ حُدُودَ اللَّهِ فَأُولَئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ (البقرہ:٢٢٩)
وفي احكام القران للجصاص:فأخبر علي أن قول الحكمين إنما يكون برضا الزوجين فقال أصحابنا ليس للحكمين أن يفرقا إلا أن يرضى الزوج وذلك لأنه لا خلاف أن الزوج لو أقر بالإساءة إليها لم يفرق بينهما ولم يجبره الحاكم على طلاقها قبل تحكيم الحكمين وكذلك لو أقرت المرأة بالنشوز لم يجبرها الحاكم على خلع ولا على رد مهرها فإذا كان كذلك حكمها قبل بعث الحكمين فكذلك بعد بعثهما لا يجوز إيقاع الطلاق من جهتهما من غير رضى الزوج وتوكيله ولا إخراج المهر عن ملكها من غير رضاها فلذلك قال أصحابنا إنهما لا يجوز خلعهما إلا برضى الزوجين فقال أصحابنا ليس للحكمين أن يفرقا إلا برضى الزوجين لأن الحاكم لا يملك ذلك فكيف يملكه الحكمان وإنما الحكمان وكيلان لهما أحدهما وكيل المرأة والآخر وكيل الزوج في الخلع أو في التفريق بغير جعل إن كان الزوج قد جعل إليه ذلك(باب الحكمين كيف يعملان،ج:٣،ص:١٥٢،مط:التراث)
وفی ردالمختار: (قوله: و شرطه كالطلاق) و هو أهلية الزوج و كون المرأة محلا للطلاق منجزا، أو معلقا على الملك و أما ركنه فهو كما في البدائع: إذا كان بعوض الإيجاب و القبول لأنه عقد على الطلاق بعوض، فلا تقع الفرقة، و لا يستحق العوض بدون القبول(باب الخلع،ج:٣،ص؛٤٤١،مط:سعید)
و في البدائع:وأما ركنه فهو الإيجاب والقبول؛ لأنه عقد على الطلاق بعوض فلا تقع الفرقة، ولا يستحق العوض بدون القبول(فصل في شرائط ركن الطلاق وبعضها يرجع إلى المرأة،ج:٣،ص:١٤٥،مط:سعيد)