نکاح

نکاح کے بعد شوہر کا رخصتی سے انکار کرنا

فتوی نمبر :
90971
| تاریخ :
2026-01-15
معاملات / احکام نکاح / نکاح

نکاح کے بعد شوہر کا رخصتی سے انکار کرنا

نکاح کے بعد شوہر رخصتی سے انکار کرے تو کیا حکم ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

اگر نکاح کے بعد شوہر رخصتی سے انکار کرے تو محض اس انکار کی وجہ سے اگرچہ نکاح پر کوئی اثر نہیں پڑے گا، لیکن بلا وجہ اور چھوٹی موٹی باتوں کو بنیاد بناکر اس رشتہ کو متأثر کرنا درست نہیں، اس لئے اولاً تو میاں بیوی کو چاہیئے کہ برادری کے معزز حضرات کے ذریعہ پائی جانی والی غلط فہمیوں کو دور کرکے رخصتی کرنے اور گھر بسانے کی کوشش کریں ، تاہم اگر باوجود کوشش کے رخصتی اور نبا ہ کی کوئی صورت ممکن نہ ہو ، اور شوہر بیوی کے ساتھ ازدواجی زندگی بسر کرنے کیلئے تیار نہ ہو تو اسے چاہیئے کہ بلا وجہ اسے اپنے نکاح کے بندھن میں باندھے رکھنے کے بجائے اس کو طلاق یا خلع دیکر اپنے نکاح کے بندھن سے آزاد کردے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کرسکے۔ اور اگر شوہر اس کے لئے بھی تیار نہ ہو، اور باوجود قدرت کے رخصتی اور دیگر حقوق ادا نہ کرتا ہو، اور نہ ہی طلاق دیتا ہو، تو ایسی صور ت میں شوہر حکما متعنت شمار ہو گا، لہذا ایسی مجبوری میں عورت کو نان و نفقہ اور حقوق کی عدم ادائیگی کی بنیاد پر بذریعہ قضاء قاضی فسخ نکاح کا حق حاصل ہوگا۔

مأخَذُ الفَتوی

وفی الدر المختار: (ولا بأس بہ عند الحاجۃ) للشقاق بعدم الوفاق (بما یصلح للمھر) (الی قولہ) (و) حکمہ أن (الواقع بہ) ولو بلا مال (وبالطلاق) الصریح (علی مال طلاق بائن) وثمرتہ فیما لو بطل البدل کما سیجيء (و) الخلع (ہو من الکنایات فیعتبر فیہ ما یعتبر فیھا) من قرائن الطلاق۔ اھـ ( کتاب الخلع، ج: 3، ص: 444، ط: سعید)۔
وفی البدائع: ‌وأما ‌شرط ‌وجوب ‌هذه ‌النفقة فلوجوبها شرطان: أحدهما يعم النوعين جميعا أعني: نفقة النكاح ونفقة العدة.والثاني يخص أحدهما وهو نفقة العدة أما الأول فتسليم المرأة نفسها إلى الزوج وقت وجوب التسليم ونعني بالتسليم: التخلية وهي أن تخلي بين نفسها وبين زوجها برفع المانع من وطئها أو الاستمتاع بها حقيقة إذا كان المانع من قبلها أو من قبل غير الزوج فإن لم يوجد التسليم على هذا التفسير وقت وجوب التسليم؛ فلا نفقة لها وعلى هذا يخرج مسائل: إذا تزوج بالغة حرة صحيحة سليمة ونقلها إلى بيته فلها النفقة لوجود سبب الوجوب وشرطه وكذلك إذا لم ينقلها وهي بحيث لا تمنع نفسها وطلبت النفقة ولم يطالبها بالنقلة فلها النفقة؛ لأنه وجد سبب الوجوب وهو استحقاق الحبس وشرطه وهو التسليم على التفسير الذي ذكرنا فالزوج بترك النقلة ترك حق نفسه مع إمكان الاستيفاء فلا يبطل حقها في النفقةالخ۔ (‌‌فصل في شرط وجوب هذه النفقة، ص: 18، ج: 4، ط: ایچ ایم سعید)۔
و فی الحیلۃ الناجزۃ: وأما المتعنت الممتنع عن الاتفاق ففی مجموع الامیر ما نصہ: ان منعھا نفقۃ الحال فلھا القیام فان لم یثبت عسرۃ انفق أو طلق، وإلا طلق علیہ، قال محشیہ: أی طلق علیہ الحاکم من غیر تلوم الخ ( ص: 73، ط:دارالاشاعت)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
عبدالعزیز رحیم عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 90971کی تصدیق کریں
0     125
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات