کیا فرماتےہیں علماء کرام و مفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک لڑکی جو کسی باہر ملک میں رہتی ہے اسکو ایک لڑکے نے بلیک میل کرکے آنلائن ایجاب وقبول کروالیا، لڑکا "دو گواہ "اور نکاح خواں "پاکستان میں ایک ہی محفل میں موجود تھیں اور لڑکی آنلائن آڈیو کال پر تھی، لڑکے کی محفل میں نہ تو کوئی لڑکی کا ولی یا وکیل موجود تھا ،نہ حق مہر طے ہوا اور نہ ادا ہوا اور لڑکی نے واضح الفاظ میں قبول ہے "کہنے کے بجائے صرف " جی جی" کہہ کے جواب دیا ۔مزید یہ کہ اس بات کے کچھ دن بعد لڑکے نے لڑکی سے کوئی بات کی اور دونوں میں جھگڑا ہوا تو لڑکے نے وائس ایپ پر لکھ کر کہا کہ" میں تمہیں طلاق دیتا ہوں "اور تین دفعہ کہا لیکن وہ میسج لڑکی سے ڈیلیٹ ہوگیا ہے ،لڑکی چونکہ باہر ملک میں رہتی ہے اور اس بات کو ہوتے ہوئے چار سال گزر گئے ،نہ لڑکے کی طرف سے لڑکی کو کچھ ملا ہے اور نہ رخصتی ہوئی ہے نہ ہمبستری۔ تو اس نکاح کا کیا حکم ہے ؟
واضح ہو کہ صحت نکا ح کی شرائط میں سے ایک شرط عاقدین کااتحاد مجلس بھی ہے کہ ایجاب وقبول ایک ہی مجلس میں ہو ،لہذا صورت مسؤلہ میں اگر لڑکی نے کسی کو اپنی طرف سے وکیل نہ بنایا ہو توچونکہ اتحاد مجلس نہیں پایا گیا اس لئے اولاً تو یہ نکاح منعقد ہی نہیں ہوا اور اگر تمام شرائط پائے جانے کی بناء پر مذکور نکاح صحیح منعقد ہوا بھی ہوتا تو بعد میں طلاق کے مسیج سے طلاق بائن واقع ہوکر بلاعدت یہ نکاح ختم ہوگیا جس کے بعد مذکور لڑکی کسی بھی دوسرے شخص سے نکاح کرنے میں آزاد ہے ۔
کما فی الد المختار: ومن شرائط الإيجاب والقبول: اتحاد المجلس لو حاضرين، وإن طال كمخيرة، وأن لا يخالف الإيجاب القبول كقبلت النكاح لا المهر ۔( ج :1 ،ص: 14 'ایچ ایم سعید)
وفي الهندية: (ومنها) أن يكون الإيجاب والقبول في مجلس واحد حتى لو اختلف المجلس بأن كانا حاضرين فأوجب أحدهما فقام الآخر عن المجلس قبل القبول أو اشتغل بعمل يوجب اختلاف المجلس لا ينعقد (كتاب النكاح، ج: 1، ص، 269، ط: مكتبة ماجدية)
و فی الدر المختار ایضاُ: (وشرط سماع كل من العاقدين لفظ الآخر) ليتحقق رضاهما. (حرين) أو حر وحرتين (مكلفين سامعين قولهما معا)علی الأصح اھ (ت:21)
و فی الھندیۃ ایضاُ: و منھا سماع کل من العاقدین کلام صاحبہ ھکذا فی فتاوی قاضی خان اھ( ٤/۲۶۸)