میں "سُنّی" ہوں اور ایک "شیعہ" لڑکی سے نکاح کرنا چاہتا ہوں،وہ کسی بھی گستاخانہ یا کفر پر مبنی عقیدہ نہیں رکھتی، جیسے حضرت علیؓ کو خدا ماننا، قرآنِ مجید میں تحریف کا عقیدہ رکھنا، یہ ماننا کہ حضرت جبرائیلؑ نے وحی پہنچانے میں غلطی کی، حضرت عائشہؓ پر لگائے گئے الزامات کو سچ سمجھنا، حضرت ابوبکر صدیقؓ کی صحابیت کا انکار کرنا، یا کوئی اور ایسا عقیدہ رکھنا جو قرآنِ کریم کے صریح احکام کے خلاف ہو۔ میں اس سے نکاح کرنا چاہتا ہوں اور اپنے گھر والوں کو بھی اس کے بارے میں مطمئن اور قائل کرنا چاہتا ہوں۔
واضح ہو کہ شیعہ لڑکی سوال میں مذکور عقائد سے مبرّا ہو،تو ایسی شیعہ لڑکی سے کسی بھی سنی لڑکے کا نکاح کرنا اگر چہ جائز اور درست ہے، مگر بہتر یہ ہے کہ ایسی عورت سے نکاح کے بجائے کسی ایسی صحیح العقیدہ سنی لڑکی سے نکاح کیا جائے، جس کے عقیدے میں کوئی شبہ نہ ہو، تاکہ آنےوالی نسلوں پر غلط اثر نہ پڑے۔
کمافي الدر المختار: و ليكن التوفيق ( أو ) الكافر بسب ( الشيخين أو ) بسب أحدهما ( فى البحر عن الجوهرة معزيا للشهيد من سب الشيخين أو طعن فيهما كفر و لا تقبل توبته ) إلى قوله ( لكن في النهر و هذا لا وجودله في أصل الجوهرة إلخ ) الخ
و في الشامية: تحت ( قوله لكن فى النهر إلخ ) نعم لا شك في تكفير من قذف السیدۃ عائشة أوأنكر صحبةالصديق أواعتقدالألوهية في على أو أن جبرائيل غلط في الوحى أو نحو ذالك من الكفر الصريح المخالف للقرآن إلخ ( مطلب مهم في حكم سب الشيخين، ج 4، ص 237،م: سعيد )
و فيها أيضا: و لا يخفى أن قوله يا رافضى بمنزلة يا كافر أو يا مبتدع فيعزر لأن الرافضي كافر إن كان يسب الشيخين مبتدع إن فضل عليا من غير سب الخ (باب التعزير ،ج:4، ص :70، م: سعيد )
وفي الفتاوى الهندية: الرافضي إذا كان يسب الشيخين ويلعنهما والعياذ بالله، فهو كافر، وإن كان يفضل عليا كرم الله تعالى وجهه على أبي بكر رضي الله تعالى عنه لا يكون كافرا إلا أنه مبتدع والمعتزلي مبتدع إلا إذا قال باستحالة الرؤية، فحينئذ هو كافر كذا في الخلاصة. ولو قذف عائشة - رضي الله تعالى عنها بالزنی كفر بالله (إلى قوله) من أنكر إمامة أبي بكر الصديق رضي الله عنه، فهو كافر، وعلى قول بعضهم هو مبتدع وليس بكافر والصحيح أنه كافر، وكذلك من أنكر خلافة عمر - رضي الله عنه- في أصح الأقوال كذا في الظهيرية إلخ (الباب فى أحكام المرتدين، ج 2، ص 264،م: رشیدیة )