علامہ صاحب!
السلام علیکم
میں اپنی صورتِ حال کے بارے میں شرعی رہنمائی چاہتی ہوں۔
میں اپنی سوتیلی بہن اور بہنوئی کے ساتھ رہتی ہوں، جو دراصل میرے حقیقی بہن بھائی نہیں بلکہ میری سوتیلی بہن کے والدین مجھے گود لے کر آئے تھے۔ میری شادی پہلے ایک جگہ کروائی گئی تھی، جس سے میرا ایک آٹھ سالہ بیٹا ہے۔ میں اپنے سسرال میں صرف ایک سال رہی، اس کے بعد مختلف وجوہات کی بنا پر میں وہاں نہ رہ سکی۔
میں خود ملازمت کرتی ہوں اور اپنے بیٹے کی پرورش خود کر رہی ہوں۔ میں اپنے بہنوئی کو خود “پاپا” کہہ دیتی ہوں، جس کی وجہ سے محرم اور نامحرم سے متعلق شرعی پہلو میرے لیے باعثِ تشویش ہیں
میرا شوہر گزشتہ آٹھ سالوں سے نہ میری کفالت کر رہا ہے، نہ مجھے لینے آیا، نہ مجھے اپنے ساتھ بسایا اور نہ ہی طلاق دی، جبکہ اس نے خود دوسری شادی کر لی ہے۔ اس پورے عرصے میں اس نے میری اور میرے بچے کی کوئی ذمہ داری ادا نہیں کی۔
اب میری سوتیلی بہن اور بہنوئی جائیداد کے لالچ میں میرا نکاح کسی ایسی جگہ ہونے نہیں دیتے جہاں میں اپنے اور اپنے بچے کے مستقبل کو محفوظ سمجھوں، بلکہ مجھ پر دباؤ ڈالا جاتا ہے کہ یا تو میں بہنوئی کے بھائی سے شادی کروں جو ان پڑھ ہے، یا پھر انتظار کرتی رہوں یہاں تک کہ عمر گزر جائے۔
ان حالات میں، مجبوری کے تحت میں نے فیملی کورٹ سے خلع حاصل کر لی ہے۔ خلع کے پورے مقدمے کے دوران بھی میرا شوہر یا اس کے گھر والے کسی پیشی میں شریک نہیں ہوئے
میں نے خلع اس نیت سے لی ہے کہ میں کسی ایسے شخص سے نکاح کر سکوں جو میری اور میرے بچے کی شرعی اور اخلاقی طور پر کفالت کر سکے۔
براہِ کرم رہنمائی فرمائیں کہ کیا میرے لیے اس طرح خلع کے بعد نکاح کرنا شرعاً درست ہے؟
جزاکم اللہ خیراً۔
واضح ہو کہ خلع بھی دیگر عقود مالیہ کی طرح ایک عقد ہے جس کی صحت کے لئے فریقین کی باہمی رضامندی سے باقاعدہ ایجاب و قبول شرط ہے جو کہ عدالتی خلع کی یکطرفہ ڈگریوں میں عموماً یہ مفقوذ ہوتی ہے ،لہذا سائلہ نے بھی اگر شوہر کی اجازت و رضامندی کے بغیر عدالت سے یکطرفہ خلع کی ڈگری حاصل کی ہو تو اس سے شرعا سائلہ کا نکاح ختم نہیں ہوا اس لئے وہ اس یکطرفہ خلع کی ڈگری کو بنیاد بنا کر کسی دوسری جگہ نکاح نہیں کرسکتی ،تاہم اگر سائلہ کا اپنے شوہر کیساتھ نباہ ممکن نہ ہو تو از خود یاعلاقے کے بڑوں کے ذریعے کسی طرح حق مہر کی معافی یا کچھ مال کے عوض شوہر کو راضی کرکے اس سے خلاصی حاصل کرنے کی کوشش کرے ۔
کما فی أحكام القرآن للجصاص : فقال أصحابنا : ليس للحكمين أن يفرقا إلا أن يرضى الزوج(الی قولہ)فقال أصحابنا : ليس للحكمين أن يفرقا إلا برضى الزوجين ; لأن الحاكم لا يملك ذلك فكيف یملکہ الحکمان(ج:٢ِ،ص:٢٣٩)
و فی المبسوط للسرخسي : و الخلع جائز عند السلطان و غيره ؛ لأنه عقد يعتمد التراضي كسائر العقود، و هو بمنزلة الطلاق.(ج:٦،ص:١٧٣)