استفتاء (برائے فتویٰ)
محترم مفتی صاحب / مفتیانِ کرام
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
بعد عرض یہ ہے کہ ایک جگہ ایسی ہے جہاں:
ایک درگاہ / مزار موجود ہے
اسی جگہ پر سالانہ میلہ لگایا جاتا ہے
میلے میں:
مٹھائی اور کھلونوں کی دکانیں لگتی ہیں
میجک شو ہوتا ہے
خواجہ سرا (خسرے) ناچ گانا کرتے ہیں
سرِعام اونچی آواز میں موسیقی چلتی ہے
سرکس شو اور تھیٹر شو بھی ہوتے ہیں
اسی جگہ کے ساتھ قبرستان بھی موجود ہے
جس میں لوگوں کی آمد و رفت، شور شرابہ اور میلے کی وجہ سے قبرستان کی بے حرمتی ہوتی ہے
مزید یہ کہ:
وہاں شراب نوشی کی جاتی ہے
بدکاری اور دیگر ناجائز افعال بھی عام ہوتے ہیں
دریافت طلب امور:
ایسی جگہ پر میلہ لگوانا یا لگانا شرعاً کیسا ہے؟
جو لوگ اس طرح کا میلہ لگواتے یا منعقد کرواتے ہوں،
ان کے ساتھ تعلق رکھنا
ان سے لین دین کرنا
شرعاً جائز ہے یا نہیں؟
ایسی جگہ کی زمین کرائے (Rent) پر دینا کیسا ہے؟
اس میلے سے حاصل ہونے والی کمائی شرعاً حلال ہے یا حرام؟
اس میلے میں فروخت ہونے والی مٹھائی یا دیگر اشیاء خرید کر کھانا کیسا ہے؟
اگر کوئی شخص ان تمام برائیوں کو جانتے ہوئے بھی
سہولت فراہم کرے
یا خاموشی اختیار کرے
تو اس کا شرعی حکم کیا ہے؟
برائے کرم قرآن و سنت کی روشنی میں مفصل رہنمائی فرما دیں،
تاکہ ہم گناہ سے بچ سکیں اور صحیح شرعی راستہ اختیار کر سکیں۔
والسلام
واضح رہے کہ سوال میں مذکور میلہ میں کیے جانے والے معاملات (ناچ گانے اور شراب نوشی وغیرہ امور) از روئے قرآن و حدیث ناجائز اور قطعاً حرام ہیں، اس میں شرکت کرنے سے خود بھی بچا جائے اور دوسروں کو بھی حکمت کے ساتھ وعظ و نصیحت کے ذریعے بچایا جائے۔ جبکہ دیدہ دانستہ اس طرح کے ناجائز امور پر مشتمل میلہ کے انعقاد کے لیے زمین کرایہ پر دینا بھی ناجائز ہے جس سے اجتناب لازم ہے۔ اس میلہ کو منعقد کرنے والے اگر حکمت و بصیرت کے ساتھ فہمائش کے ذریعے باز نہیں آتے تو ان کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی جا سکتی ہے، تاہم اگر اس میں مشکلات یا فتنہ و فساد کا اندیشہ ہو تو ان سے قطع تعلق کرکے کسی بھی مناسب طریقے سے اس منکر کو ختم کرنے کی سبیل نکالنے کی کوشش اور فکر جاری رکھے، ان شاء اللہ مددِ خداوندی شامل ہوگی۔
كما قال لله تعالى في القرآن المجيد:يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ إِنَّمَا ٱلۡخَمۡرُ وَٱلۡمَيۡسِرُ وَٱلۡأَنصَابُ وَٱلۡأَزۡلَٰمُ رِجۡسٞ مِّنۡ عَمَلِ ٱلشَّيۡطَٰنِ فَٱجۡتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمۡ تُفۡلِحُونَ(سورة المائده:٩٠)
و قال لله تعالى في مقام آخر:وَتَعَاوَنُواْ عَلَى ٱلۡبِرِّ وَٱلتَّقۡوَىٰۖ وَلَا تَعَاوَنُواْ عَلَى ٱلۡإِثۡمِ وَٱلۡعُدۡوَٰنِۚ وَٱتَّقُواْ ٱللَّهَۖ إِنَّ ٱللَّهَ شَدِيدُ ٱلۡعِقَابِ(سورة المائده:٢)
و في سنن ابي داؤد: عن أبي سعيد الخدري، قال: أخرج مروان المنبر في يوم عيد، فبدأ بالخطبة قبل الصلاة، فقام رجل فقال: يا مروان، خالفت السنة، أخرجت المنبر في يوم عيد، ولم يكن يخرج فيه، وبدأت بالخطبة قبل الصلاة، فقال أبو سعيد الخدري: من هذا؟ قالوا: فلان بن فلان، فقال: أما هذا فقد قضى ما عليه، سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «من رأى منكرا فاستطاع أن يغيره بيده فليغيره بيده، فإن لم يستطع فبلسانه، فإن لم يستطع فبقلبه، وذلك أضعف الإيمان»( باب الخطبة،ج:١،ص:٥٤٤،مط:البشرى)
و في كنز العمال:"من كثر سواد قوم فهو منهم، ومن رضي عمل قوم كان شريكا في عمله". "الديلمي عن ابن مسعود".(كتاب الصلاة،ج:٩،ص:٢٢،مط:مؤسسة الرسالة)
و في حاشية ابن عابدين: (قوله وجاز تعمير كنيسة) قال في الخانية: ولو آجر نفسه ليعمل في الكنيسة ويعمرها لا بأس به لأنه لا معصية في عين العمل (قوله وحمل خمر ذمي) قال الزيلعي: وهذا عنده وقالا هو مكروه " لأنه عليه الصلاة والسلام «لعن في الخمر عشرة وعد منها حاملها» وله أن الإجارة على الحمل وهو ليس بمعصية، ولا سبب لها وإنما تحصل المعصية بفعل فاعل مختار، وليس الشرب من ضرورات الحمل، لأن حملها قد يكون للإراقة أو للتخليل، فصار كما إذا استأجره لعصر العنب أو قطعه والحديث محمول على الحمل المقرون بقصد المعصية اهـ زاد في النهاية وهذا قياس وقولهما استحسان، ثم قال الزيلعي: وعلى هذا الخلاف لو آجره دابة لينقل عليها الخمر أو آجره نفسه ليرعى له الخنازير يطيب له الأجر عنده وعندهما يكره.( فصل في البيع،ج:٦،ص:٣٩١،مط:سعيد)