ہم جوائنٹ فیملی سسٹم میں رہتے ہیں جس میں میرا کمرہ میرے دیور کے کمرے کے بالکل سامنے ہے۔ میں حجاب کرتی ہوں اور میرے دیور نے اپنے کمرے اور بچوں کے کمرے کے باہر کیمرے لگا دیے ہیں۔ ہمارے کمرے ساتھ ساتھ ہیں۔ ہمارے گھر کی ملکیت پر جھگڑا ہے۔ یہ گھر میرے شوہر اور دیور کے نام ہےاس گھر کا سیٹلمنٹ دونوں بھائیوں کے درمیان 2022 میں ہوا تھا جس میں طے پایا تھا کہ میرے شوہر اسلام آباد میں پلاٹ جو ان دونوں بھائیوں کی اجتماعی ملکیت ہے اس میں سے اپنا نام نکلوا لیں گے اور وہ پلاٹ دیور کے نام کر دیں گے۔ دیور اس کے بدلے یہ کراچی والا گھر میرے شوہر کے نام کریں گے۔ میرے شوہر نے ایسا کیا اور رجسٹرڈ ایگریمنٹ کر لیا سی ڈی اے میں، اور 8 کروڑ کے چیک بھی دیے گارنٹی کے طور پر تاکہ وہ اپنی بات سے نہ مکرےجب میرے دیور سے گھر ٹرانسفر کرنے کی بات آئی تو اس نے میرے شوہر سے التجا کی کہ جب تک وہ پلاٹ نہیں بکتا اسے اس گھر میں رہنے کی اجازت دی جائے، اور یہ گھر وہ جاوید (میرے شوہر) کے نام تب کر دے گا جب یہ پلاٹ بک جائے گا۔ جاوید نے نوید (دیور) کی بات مان لی اور نوید اور اس کی فیملی کو رہنے کی اجازت دے دی . اب اس نے چھپ کر یہ پلاٹ بیچنے کی کوشش کی جس میں یہ کچھ کامیاب بھی ہوا۔ اس نے 35 کروڑ میں بیچا اور 20 کروڑ ایڈوانس لے لیے۔ ابھی 15 کروڑ باقی تھے جس پر میرے شوہر نے اس پلاٹ پر اسٹے لے لیامیرے دیور نے گھر میں کیمرے اندر اور باہر لگا دیے ہیں جن میں سے دو کیمرے میرے اور بچوں کے کمرے کے باہر لگائے ہیں۔ میں حجاب کرتی ہوں، اور نوید سارا وقت مجھے اس کیمرے میں دیکھتا رہتا ہےمیری التجا ہے کہ یہ کیمرے ہٹائے جائیں۔ جاوید یہ کہتے ہیں کہ ہم کورٹ میں لڑیں گے، مگر یہ شرعی طور پر میرے ساتھ زیادتی ہے۔ میں ابھی قرآن بھی حفظ کر رہی ہوں۔ میرے قاری صاحب نے مجھے یہ راستہ دکھایا ہے۔ خدایا میری مدد کریں۔
واضح ہو کہ عمومًا تو گھر کے اندرونی حصہ میں کیمرے لگانے کی ضرورت بھی نہیں ہو تی ،تاہم اگر سائلہ کے دیور کو اپنی ذاتی اشیاء سے متعلق گھر کے افراد پر بھی اطمنان نہ ہو ،تو اسے چاہئے کہ حفاظت کی غرض سے اپنے کمرے میں اس طور پر کیمرے نصب کردے ، کہ اس کی ذاتی اشیاء میں دخل اندازی کرنے والے کا اسے علم ہو سکے ،البتہ کیمرے گھر میں اس طرح لگا نا جو سائلہ اور اس کی بچوں کی پرائیویسی اثر انداز ہو اخلاقاً وشرعاً درست طرز عمل نہیں جس سے اسے احتراز لازم ہے ۔
كما فی صحیح البخاری : حدثنا قتيبة بن سعيد: حدثنا ليث، عن يزيد بن أبي حبيب، عن أبي الخير، عن عقبة بن عامر، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال:(إياكم والدخول على النساء). فقال رجل من الأنصار: يا رسول الله، أفرأيت الحمو؟ قال: (الحمو الموت).اھ( باب لایدخلون رجل بامرۃ الا ذو محرم ، ج : 5ص : 2005 ناشر : دار ابن کثیر)
وفی شرح السیر الکبیر : وإن تحققت، الحاجة له إلى استعمال السلاح الذي فيه تمثال فلا بأس باستعماله. لأن مواضع الضرورة مستثناة من الحرمة، كما في تناول الميتة.اھ (باب مايكره في دار الحرب وما لا يكره ، ج :1 ص: 1463 ناشر: الشرکۃ الشرقیۃ)