السلام علیکم
ہم دوبہنیں ہیں، عمر54 اور 62 سال ہے ، غیر شادی شدہ ہیں ،والدہ کی عمر 80 سال ہے ،2017 میں بھائی کے ساتھ حج کیا ہے، اب عمرہ کرنے کی خواہش ہے لیکن فالج ہونے کی وجہ سے بھائی ساتھ نہیں جا سکتے۔،کیا ہم بغیر محرم کے کسی گروپ کے ساتھ عمرہ کرنے جا سکتے ہیں ؟ کیونکہ سعودی حکومت نے تو اجازت دے دی ہے ہمارا اور کوئی بھی محرم نہیں ہے اور والدہ کی بہت زیادہ خواہش ہے جانے کی ، برائے مہربانی راہنمائی فرمائیں۔
کسی بھی خاتون کے لۓ بغیر محرم کےمسافتِ شرعیہ کے بقدر سفرکرنا شرعاًجائز نہیں، اگرچہ وہ خاتون عمررسیدہ کیوں نہ ہو ، اس لۓ سائلہ اور اس کی بہن کے لۓ خواتین کے گروپ میں بھی بغیر محرم کے عمرہ کے سفر پر جانا شرعاًجائز نہیں،تاہم اگرسائلہ اور اس کی بہن بغیر محرم کے اس طرح سفر کرلیتی ہے، تو ان کا عمرہ اگر چہ ادا ہوجائےگا، تاہم بغیر محرم کے سفر کا گناہ بہر حال اپنی جگہ برقرار رہیگا۔
کمافی الصحیح لمسلم: عن عبد الله بن عمر، عن النبي صلى الله عليه وسلم، قال: «لايحل لامرأة تؤمن بالله واليوم الآخر، تسافر مسيرة ثلاث ليال، إلا ومعها ذو محرم».( 1/433، کتاب الحج، ط: قدیمی)۔
وفی صحیح البخاری: عن ابن عباس رضي الله عنهما، أنه: سمع النبي صلى الله عليه وسلم، يقول: «لايخلونّ رجل بامرأة، ولا تسافرنّ امرأة إلا ومعها محرم»، فقام رجل فقال: يا رسول الله، اكتتبتُ في غزوة كذا وكذا، وخرجت امرأتي حاجةً، قال: «اذهب فحجّ مع امرأتك»".(4/ 59)۔