جناب مفتی صاحب! میں ایک لڑکی سے نکاح کرنا چاہتا ہوں، جس لڑکی سے نکاح کرنا چاہتا ہوں وہ مانسہرہ کی رہائشی ہے اور نام اس کا آمنہ ہے اس کے ماں باپ کا انتقال ہو گیاہے ، وہ اپنے چچا کے گھر رہتی ہے اور چچا کی فیملی کے ظلم سے تنگ آکر وہ مجھ سے نکاح کرنا چاہتی ہے، آمنہ کی عمر پندرہ سال ہے، آپ سے درخواست ہے کہ ہمارے نکاح میں ہماری مدد کی جائے، آپ کی بہت مہربانی ہوگی۔
سائل کا کسی اجنبیہ لڑکی سے تعلقات ہموار کرنا اور بے تکلفی اختیار کرنا نا جائز وحرام ہے، اس کو چاہیے کہ اپنے اس عمل سے اجتناب کرے، اور اگر واقعۃً اس لڑکی کیساتھ خیر خواہی مقصود ہو تو اپنے بڑوں کے ذریعہ اس کے چچا کے پاس رشتہ بھیج کر اس کے ساتھ عقدِ نکاح کرے ۔
کما فی الدر المختار: الخلوة بالأجنبية حرام إلا لملازمة مديونة هربت ودخلت خربة أو كانت عجوزا شوهاء أو بحائل، والخلوة بالمحرم مباحة إلا الأخت رضاعا، والصهرة الشابة وفي الشرنبلالية معزيا للجوهرة: ولا يكلم الأجنبية إلا عجوزا عطست أو سلمت فيشمتها لا يرد السلام عليها وإلا لا انتهى۔اھ (6/ 368)
وفی الفقه الإسلامي وأدلته: وأما المعاشرة قبل الزواج والذهاب معاً إلى الأماكن العامة وغيرها، فهو كله ممنوع شرعاً۔اھ (9/ 6508)