شوہر کے انتقال کے بعد "سسر " سے پردہ لازم ہے، یا ایک گھر میں رہنا جائز ہے?
جس طرح شوہر کی زندگی میں" سسر" محرم ہوتاہے اور اس سے پردہ لازم نہیں ہوتا ، اسی طرح شوہر کے انتقال کے بعد بھی" سسر "شرعاً محرم ہی رہتاہے اور اس سے پردہ لازم نہیں ہوتا ، اسی طرح بیوہ عورت کو ،عدتِ وفات اپنے شوہر کے گھر میں ہی پوری کرنا لازم ہے ، تاہم اگر شوہر کے گھر میں رہتے ہوئے دورانِ عدت "سسر " کے سامنے آنے سے کسی کی قسم کے فتنہ کا اندیشہ ہو ، تو "سسر " کے ساتھ میل جول رکھنے سے حتی المکان اجتناب لازم ہے ، اور اگر اس گھر میں رہتے ہوئے عزت محفوظ نہ رہنے کا اندیشہ ہو ، تو ایسی صورت میں شوہر کے گھر عدتِ وفات پورا کرنے کے بجائے ، والدین کے ہاں عدت پوری کرنے کا اہتمام کرنا چاہیۓ۔
قال اللہ تعالی: حُرِّمَتْ عَلَیْکُمْ اُمَّہٰتُکُمْ وَ بَنٰتُکُمْ وَ اَخَوٰتُکُمْ وَ عَمّٰتُکُمْ وَ خٰلٰتُکُمْ وَ بَنٰتُ الْاَخِ وَ بَنٰتُ الْاُخْتِ وَ اُمَّہٰتُکُمُ الّٰتِیْٓ اَرْضَعْنَکُمْ وَ اَخَوٰتُکُمْ مِّنَ الرَّضَاعَۃِ وَ اُمَّہٰتُ نِسَآئِکُمْ وَ رَبَآئِبُکُمُ الّٰتِیْ فِیْ حُجُوْرِکُمْ مِّنْ نِسَآئِکُمُ الّٰتِیْ دَخَلْتُمْ بِہِنَّ فَاِنْ لَّمْ تَکُوْنُوْا دَخَلْتُمْ بِہِنَّ فَلاَ جُنَاحَ عَلَیْکُمْ وَ حَلَآئِلُ اَبْنَآئِکُمُ الَّذِیْنَ مِنْ اَصْلاَبِکُمْ ، وَ اَنْ تَجْمَعُوْا بَیْنَ الْاُخْتَیْنِ اِلاَّ مَا قَدْ سَلَفَ ، اِنَّ اللّٰہَ کَانَ غَفُوْراً رَّحِیْماً۔ (سورۃ النساء : آیت ۲۳)۔
و فی البحر الرائق : حرم تزوج أمہ و بنتہ و إن بعدتا ، و أختہ و بنتہا و بنت أخیہ و عمتہ و خالتہ و أم امرأتہ و بنتہا إن دخل بہا ، و امرأۃ أبیہ و ابنہ و إن بعدا ، و الکل رضاعًا و الجمع بین الأختین ۔ ( ۳/ ۹۲-۹۵)۔
و فی الفتاویٰ الھندیۃ : و الثالثة حليلة الابن و ابن الابن و ابن البنت و إن سفلوا دخل بها الابن أم لا و لا تحرم حليلة الابن المتبنى على الأب المتبني هكذا في محيط السرخسي۔ (۲۷۴/۱)۔