تین سال کی عمر سے بیٹی سوتیلے باپ کےالگ گھر میں پلی۔ پندرہ سال کی عمر میں ماں کا انتقال ہوگیا۔
ماں کے انتقال کے بعد سوتیلا باپ محرم رہے گا؟اور ماں کے انتقال کے بعد بیٹی سوتیلے باپ کے گھر میں رہ سکتی ہے؟ ہاتھ ملا سکتی ہے؟ پردے کا حکم ہوگا؟ ساتھ سفر کرسکتی ہے؟ ساتھ حج ہوسکتا ہے؟ سوتیلے باپ کے گھر والے یعنی چاچا، تایا، دادا ۔ ان سب سے رشتہ سگے گھر والوں جیسا ہوگا؟
سوتیلا باپ اپنے بیوی کے سابقہ شوہر سے بیٹی کے لیے ہمیشہ کے لیےمحرم ہے، اس لیےبیٹی کا اپنے سوتیلے والد کے گھر رہنا، ہاتھ ملانا یا کسی سفر وغیرہ پر جانے میں شرعًا حرج نہیں، بشرطیکہ فتنہ وغیرہ کا اندیشہ نہ ہو، البتہ اگر لڑکی جوان ہو اور اسے وہاں اطمینان نہ ہو تو وہاں سے کسی اور محرم رشتے دار کے گھر منتقل ہوناچاہیے۔ جبکہ سوتیلے والد کے دیگر رشتہ دار جیسے بھائی وغیرہ چونکہ اس لڑکی محارم میں سے نہیں ہیں، اس لیے ان سے پردہ لازم ہوگا۔
قال اللہ سبحانہ وتعالی:
حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ أُمَّهَاتُكُمْ وَبَنَاتُكُمْ وَأَخَوَاتُكُمْ وَعَمَّاتُكُمْ وَخَالَاتُكُمْ وَبَنَاتُ الْأَخِ وَبَنَاتُ الْأُخْتِ وَأُمَّهَاتُكُمُ اللَّاتِي أَرْضَعْنَكُمْ وَأَخَوَاتُكُمْ مِنَ الرَّضَاعَةِ وَأُمَّهَاتُ نِسَائِكُمْ وَرَبَائِبُكُمُ اللَّاتِي فِي حُجُورِكُمْ مِنْ نِسَائِكُمُ اللَّاتِي دَخَلْتُمْ بِهِنَّ فَإِنْ لَمْ تَكُونُوا دَخَلْتُمْ بِهِنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ وَحَلَائِلُ أَبْنَائِكُمُ الَّذِينَ مِنْ أَصْلَابِكُمْ وَأَنْ تَجْمَعُوا بَيْنَ الْأُخْتَيْنِ إِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ إِنَّ اللَّهَ كَانَ غَفُورًا رَحِيمًا۔ (النساء:۲۳)