اسلام میں سب مسلمان بھائی بہن ہیں، اگر کسی لڑکے اور لڑکی کی منگنی ہوجاتی ہے ، تو پھر بھی وہ بھائی بہن ہو نگے جب تک نکاح نہیں ہو جاتا، کیو نکہ لوگ منگنی کے بعد ساتھ گھومنا پھر نا اور فون پر بات کرتے ہیں۔
واضح ہو کہ سب مسلمان آپس میں بہن بھائی ہونےکا مطلب یہ ہے کہ سب آدم ؑکی اولاد اور ایک دین کے پیرو کار ہیں، اس لئے مسلمانوں کے درمیان اس حیثیت کی بھائی چارگی نہ منگنی سے ختم ہوتی ہے ، اور نہ ہی شادی سے۔ تاہم اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ اس کے درمیان نسبی رشتہ بھی قائم ہو جاتا ہے، اور آپس میں محرمات بن جاتے ہیں ، لہٰذا جب تک باقاعدہ نکاح نہ ہو تو منگنی ہو نے کے بعد کسی لڑکی کے ساتھ گھومنا پھر نا اور مو بائل پر اس کے ساتھ بلا ضرورت بے تکلفانہ بات چیت کر شرعاً جائز نہیں،اس سے اجتناب لازم ہے۔
کما فی اعراب القرآن: انماالمؤمنون إخوۃ فاصلحو ا بین أخویکم واتقواللہ لعلکم تر حمون(۱۰) انما المومنون اخوۃ مبتدأ وخبرہ لما اتفقوافی الدین رجعوا الی اصلھم لأنھم جمیعا من بنی آدم۔اھـ(۱۴۲/۴)۔
وفی احکام القرآن للجصاص: وقولہ تعالی انما المؤمنون اخوۃ فا صلحوا بین اخویکم یعنی انھم اخوۃ فی الدین کقولہ تعالی فان لم تعلموا آباءھم فاخوانکم فی الدین وموالیکم وفی ذلک دلیل علی جواز اطلاق لفظ الا خوۃ بین المومنین من جھۃ الدین اھـ (۲۸۵/۵) واللہ اعلم باالصواب