میری بیوی کی ایک قریبی دوست ہے، جس کو وہ اپنی بہن اور اس کے شوہر کو اپنا بھائی مانتی ہے، مجھے وہ لوگ پسند نہیں ہے، میں نے کئی مرتبہ اس کو چھوڑنے کا کہا ہے، مگر وہ نہیں مانتی، کیا اس پر میری اطاعت کرنا ضروری نہیں، اور اسلام میں کیا ایسے بھائی کی کوئی حیثیت ہے۔
کسی غیر محرم کو بھائی بھائی بول دینے سے شرعاً نہ تو وہ بھائی بن جاتا ہے ،اور نہ ہی محرم بن سکتا ہے، لہذا سائل کی بیوی شخص مذکور کے لئے بدستور غیر محرم ہے ،اور اس کے سامنے اُسے بلا حجاب آنا یا اس کے ساتھ باہم بے تکلفی اختیار کرنا جائز نہیں، اسے اپنے مذکور طرزِ عمل سے احتراز لازم ہے، اور اگر نرمی کے ساتھ سمجھانے کے باوجود وہ اپنی اس ناجائز حرکت و بے پردگی سے باز نہ آئے تو اس صورت میں سائل تنبیہاً اس کی پٹائی بھی کر سکتا ہے۔
قال الله تعالى : {يَاأَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِأَزْوَاجِكَ وَبَنَاتِكَ وَنِسَاءِ الْمُؤْمِنِينَ يُدْنِينَ عَلَيْهِنَّ مِنْ جَلَابِيبِهِنَّ ذَلِكَ أَدْنَى أَنْ يُعْرَفْنَ فَلَا يُؤْذَيْنَ } [الأحزاب: 59]
وقال تعالى : {وَاللَّاتِي تَخَافُونَ نُشُوزَهُنَّ فَعِظُوهُنَّ وَاهْجُرُوهُنَّ فِي الْمَضَاجِعِ وَاضْرِبُوهُنَّ فَإِنْ أَطَعْنَكُمْ فَلَا تَبْغُوا عَلَيْهِنَّ سَبِيلًا إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيًّا كَبِيرًا } [النساء: 34]
و في الدر المختار: (ومن محرمه) هي من لا يحل له نكاحها أبدا بنسب أو سبب ولو بزنا (إلی قوله) (وما حل نظره) مما مر من ذكر أو أنثى (حل لمسه) إذا أمن الشهوة على نفسه وعليها ( الى قوله ) (إلا من أجنبية) فلا يحل مس وجهها وكفها وإن أمن الشهوة ( الى قوله ) ولا يكلم الأجنبية إلا عجوزا اھ (6/ 367)۔