السلام علیکم ورحمۃ اللہ!
میرا ایک پیچیدہ مسئلہ ہے۔ میرا ایک لڑکی کے ساتھ گزشتہ تین سال سے تعلق (افیئر) چل رہا ہے۔ ابتدا میں ہم صرف کلاس فیلو تھے، پھر رفتہ رفتہ ہماری جان پہچان بڑھی اور دوستی میں بدل گئی، اور بعد ازاں یہ دوستی محبت کے تعلق میں تبدیل ہوگئی۔ اس لڑکی کو مجھ سے بہت محبت ہے (کم از کم اس کے کہنے کے مطابق، باقی حقیقت اللہ ہی بہتر جانتا ہے)۔ اس لڑکی کا مسئلہ یہ ہے کہ اس کے گھر میں بہت زیادہ پریشانیاں اور گھریلو مسائل ہیں، اور اسی وجہ سے میں اس سے شادی کرنے پر آمادہ ہوں، ورنہ مجھے اس سے اتنی شدید محبت نہیں ہے۔
اب مسئلہ یہ ہوگیا ہے کہ یونیورسٹی چھوڑنے کے بعد ہم ایک دوسرے سے دور ہوگئے، کیونکہ میں اپنی ریاست سے باہر ملازمت کر رہا ہوں۔ اس لیے ہماری بات چیت صرف اور صرف ٹیلی فون پر ہوتی ہے۔ فون پر باتیں کرتے کرتے آہستہ آہستہ شرم و حیا کا پردہ کم ہوگیا اور ہم غلط قسم کی باتیں کرنے لگے۔
حال ہی میں ہم ایک طویل عرصے بعد ملے تو ایک دوسرے کے بہت قریب آگئے۔ ہم نے ایک دوسرے کو بوسہ دیا اور گلے ملے۔ ہم ایک الگ کمرے میں ملے تھے۔ یہاں تک کہ میں اس کے اوپر بھی چڑھ گیا، لیکن ہم نے باقاعدہ جنسی تعلق (Intercourse) قائم نہیں کیا۔ البتہ میری اور اس کی شرمگاہ آپس میں مل گئی تھی۔ اس دوران ہم مکمل طور پر کپڑوں میں ملبوس تھے، کسی لمحے کے لیے بھی کپڑے نہیں اتارے گئے، اور جو کچھ بھی ہوا کپڑوں کے ساتھ ہی ہوا۔
اس دن کے بعد سے میں بہت زیادہ احساسِ جرم میں مبتلا ہوں، اور شاید وہ بھی۔ اسی وجہ سے ہم ایک دوسرے سے کم بات کر رہے ہیں۔ اب ہم دوبارہ روزگار کی وجہ سے ایک دوسرے سے دور ہیں۔
میرا سوال یہ ہے کہ ہمارے درمیان جو کچھ ہوا، کیا وہ زنا شمار ہوگا؟ اگر ہوگا تو کیا فون پر غلط باتیں کرنا، بوسہ لینا، فون پر یا حقیقت میں ہونٹوں یا جسم کے کسی اور حصے پر بوسہ دینا، گلے ملنا وغیرہ بھی زنا میں شامل ہیں؟
ہم نے کبھی کسی اور کے ساتھ اس قسم کا کوئی تعلق نہیں رکھا، اور گزشتہ تین سال سے ہم ایک دوسرے کو اپنا ہونے والا شریکِ حیات سمجھتے ہیں۔ اگر یہ سب زنا کے حکم میں آتا ہے تو کیا ہماری آپس میں شادی ہوسکتی ہے؟ کیا ہماری شادی درست اور پاک ہوگی یا مکروہ ہوگی؟ یا ہماری شادی حرام ہوگی؟
میں نے سنا ہے کہ اگر یہ زنا کے حکم میں آتا ہو تو اگر ہم آپس میں شادی بھی کرلیں تو شادی کے بعد بھی یہ تعلق زنا ہی شمار ہوگا۔ براہِ کرم میرے مسئلے کا تفصیلی جواب ای میل کے ذریعے عنایت فرمائیں۔
مجھے یہ سمجھ نہیں آتا کہ اگر ہم شادی نہ کرسکے تو وہ میرے بغیر نہیں رہ سکے گی اور اس کی مشکلات مزید بڑھ جائیں گی۔ اسے یہ محسوس ہوگا کہ میں نے اسے دھوکہ دیا ہے، یا وہ مجھے بددعا دے گی۔ میں اس کا دل توڑنے سے ڈرتا ہوں۔ آپ ہی رہنمائی فرمائیں کہ میں کیا کروں۔
اللہ تعالیٰ آپ کو اس کا اجر عطا فرمائے۔ میں تو خود دعا کرنے کے بھی قابل نہیں ہوں۔
مذكور طریقہ پر کسی بھی اجنبیہ عورت کے ساتھ تعلقات قائم کرنا اور میل ملاپ کرنا اگرچہ حقیقۃً زنا تو نہیں، مگر سخت گناہ اور انتہائی درجہ قبیح حرکت ہے، جس کی وجہ سے سائل اور مذکورہ لڑکی دونوں گناہ گار ہوئے ہیں۔ ان پر اپنے اس گناہ پر ندامت کیسا تھ بصدق دل توبہ و استغفار لازم ہے، تا ہم اس گناہ کی وجہ سے ان کا باہم عقد نکاح شرعاً نا جائز اور ممنوع نہیں ہوا۔ اس لیے سائل اگر اس کے ساتھ عقد نکاح کرنا چاہتا ہے تو اپنے اور اس لڑکی کے والدین کی رضا مندی اور مشورہ کے ساتھ کر سکتا ہے اور اسے ایسا ہی کرنا چاہیے۔