نکاح

دو بہنوں اور چچازاد بھائی کی موجودگی میں دوبارہ نکاح کرنے اور اس نکاح میں حق مہر لازم ہونے کا حکم

فتوی نمبر :
90439
| تاریخ :
2025-12-31
معاملات / احکام نکاح / نکاح

دو بہنوں اور چچازاد بھائی کی موجودگی میں دوبارہ نکاح کرنے اور اس نکاح میں حق مہر لازم ہونے کا حکم

حضرات مفتیان کرام
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
سوال (١) اگر کسی شخص نے اپنی بیوی کو اسکا پورا مہر ادا کردیا تھا ، اب پھر سے شوہر نے تجدید نکاح کیا اور اِس تجدید نکاح میں مہر پچھلے والے مہر سے کم مقرر کیا اور اس کمی پر بیوی رضامند تھی تو اب کیا حکم ہے؟
(٢) اگر زید نے اپنی بیوی سے تجدید نکاح کیا اور اپنے نکاح میں گواہ دو خواتین جو کہ زید کی حقیقی بہنیں تھیں اور ایک مرد جو کہ زید کا چچا زاد بھائی تھا انکی موجودگی میں اِسی مجلس میں موجود بیوی سے کہا کہ میں نے ایک مرد اور دو خواتین ( خواتین کا نام بھی لیا ) گواہوں کی موجودگی میں ٨ ہزار مہر کے عوض ( مجلس میں بیٹھی بیوی سے کہا ) میں نے تم سے نکاح کیا، پھر بیوی نے کہا کہ قبول کیا تو کیا نکاح ہوگیا ؟
نیز بیوی اور گواہ نکاح کے وقت شرم کی وجہ سے ہنس رہے تھے کیا اس سے کوئی فرق تو نہیں پڑا ؟
(٣) اگر مجلس عقد کے بعد کوئی گواہ مکر جائے تو کیا نکاح پر اثر پڑیگا ؟
برائے کرم جواب جلد مرحمت فرمادیں تاکہ اطمینان ہوجائے جزاک اللہ خیرا

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورت مسئولہ میں اگر مذکور شخص (زید)نے طلاق بائن وغیرہ کسی وجہ سے بیوی سے سوال میں مذکور تفصیل کے مطابق دوبارہ نکاح کیا تو یہ دوسرا نکاح بھی درست منعقد ہوا ہے ،اور اب اس نئے نکاح میں طے شدہ حق مہر کی ادائیگی بھی مذکور شخص( زید) کے ذمہ لازم اور ضروری ہوگی ۔

مأخَذُ الفَتوی

كما في سنن أبي داود : عن أبي هريرة رضي الله عنه أن رسول الله صل الله عليه و سلم قال : ثلاث جدهن جد و هزلهن جد : النكاح والطلاق والرجعة ( باب في الطلاق على الهزل ، ص ٤٩٣ ، رقم : ٢١٩٤ ، ط : مؤسسة الرسالة )
وفى الهداية:ولا ينعقد نكاح المسلمين إلا بحضور شاهدين حرين عاقلين بالغين مسلمين رجلين أو رجل وامرأتين عدولا كانوا أو غير عدول أو محدودين في القذف " قال رضي الله عنه اعلم أن الشهادة شرط في باب النكاح لقوله عليه الصلاة والسلام " لا نكاح إلا بشهود(ج:١،ص:١٨٥)
و فى الدرالمختار:(و) شرط (حضور) شاهدين (حرين) أو حر وحرتين (مكلفين سامعين قولهما معا).(ج:٣،ص:٢١)
وفی الھندیۃ: إذا تزوج امرأة على صداق في السر وسمع في العلانية بأكثر من ذلك فالمسألة على وجهين. (الأول) أن يتواضعا في السر على مهر ثم تعاقدا في العلانية بأكثر فإن كان ما تعاقدا عليه في العلانية من جنس ما تواضعا عليه في السر إلا أنه أكثر مما تواضعا عليه في السر فإن اتفقا على المواضعة أو أشهد الرجل عليها أو على وليها أن المهر هو المسمى في السر والزيادة سمعة فالمهر ما تواضعا عليه في السر الخ (الباب السابع فی المھر، ج1، ص: 315، ط: ماجدیہ)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد عاشق یونس عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 90439کی تصدیق کریں
0     4
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات