السلام علیکم مفتی صاحب!
ایک شرعی مسئلہ دریافت کرنا ہے۔ میں ایک عاقل اور بالغ لڑکی ہوں اور میں نے حال ہی میں اپنے گھر والوں (والد) کو بتائے بغیر اپنی پسند سے نکاح کیا ہے۔ نکاح کی تقریب ویڈیو کال کے ذریعے ہوئی تھی۔ جس میں دو مسلمان گواہ اور ایک وکیل بھی موجود تھے۔ ایجاب و قبول گواہوں کے سامنے براہِ راست ویڈیو کال پر ہوا تھا۔ میری والدہ کو اس کا علم تھا مگر والد صاحب کو نہیں بتایا گیا۔ کیا والد کی اجازت کے بغیر اور ویڈیو کال پر ہونے کی وجہ سے نکاح کی شرعی حیثیت پر کوئی فرق پڑتا ہے؟
واضح ہو کہ نکاح کرتے وقت لڑکا، لڑکی اور گواہوں کا ایک مجلس میں موجود ہونا اوران گواہوں کےسامنے اس طرح ایجاب وقبول کرنا کہ گواہ بھی اسے سن لیں صحت ِنکاح کے لیے شرط ہے، اس کے بغیرشرعا نکاح منعقد نہیں ہوتا، اس لیے سوال میں ذکر کردہ طریقہ کار کے مطابق جب گواہ مجلس نکاح میں موجود نہیں تھے، تو محض فون پر ایجاب وقبول سننے سے ان دونوں کا نکاح شرعا منعقد نہیں ہوا، بلکہ یہ دونوں بدستور اجنبی اور ایک دوسرے کے لیے نامحرم ہیں، اس لیے اس نکاح کو بنیاد بناکر ایک دوسرے کے ساتھ کسی بھی قسم کا تعلق یا بے تکلفی اختیار کرنا شرعاجائز نہیں ،اس سے اجتناب لازم ہے۔
کمافی الدر المختار: ومن شرائط الإيجاب والقبول: اتحاد المجلس لو حاضرين اھ
وفی ردالمحتار: تحت (قوله: اتحاد المجلس) قال في البحر: فلو اختلف المجلس لم ينعقد، (الیٰ قوله) ولو عقدا وهما يمشيان أو يسيران على الدابة لایجوز اھ (کتاب النکاح، ج:3، ص:14،ناشر:سعید)