السلام علیکم مفتی صاحب!
میں وقار خان ولد رفیق ,میرا سوال یہ ہے کہ میری منگنی میرے پھوپھو زاد کی بیٹی سے ہوئی،ہماری کاسٹ ایک ہے ،ہم دونوں پٹھان ہیں، ہم پٹھان مولوی کے نام سے جانے جاتے ہیں ،اور لڑکی والے لوہار کے نام سے جانے جاتے ہیں ،آج سے سات سال پہلے ہم دونوں کے ماں باپ کی رضامندی سے منگنی ہوئی، سات سال کے دوران گھر والے آپس میں آتے جاتے رہے اور تحائف کا تبادلہ بھی ہوتا رہا ،جس میں میرے گھر کی طرف سے سونے کی بالیاں بنائی گئیں، سات سال بعد لڑکی کے گھر کی طرف سے انکار آیا، جس سے میرے گھر والے ناراض ہوئے ان سے ،اور ان کے پاس گئے ،تاکہ بات کو ختم کر سکیں، لیکن وہ راضی نہیں ہوئے ،پھر میں اور لڑکی نے فیصلہ کیا کہ ہم دونوں کورٹ میں شادی کرتے ہیں ،اور اس کی رضامندی پر ہم نے شادی کی ،جس کے بعد لڑکی کے ابو نے ایف ،آئی ،آر کی مجھ پر اغوا کی ،جو میں ختم کرنے کورٹ گیا اور لڑکی نے اپنا بیان دیا جو منسلک ہے ،اس دوران جب لڑکی پیش ہوئی تو اس کی بہن نے آواز دے کر کہا کہ امی کو طلاق دے دی ابو نے ،اور ابو نے یہ کہا کہ تم اگر گھر نہیں گئی تو آپ کی امی کو طلاق دے دوں گا، جس پر لڑکی نے کہا کورٹ میں کہ میں گھر جانا چاہتی ہوں ،تاکہ میں اپنے ماں باپ کو راضی کر سکوں، اس کے بعد لڑکی کی طرف سے خلع کے لیے درخواست جمع کی ،جو منسلک ہے ،جس میں سارے الزامات جھوٹ ،غلط اور بے بنیاد ہیں ،اور کورٹ والوں نے میری بات نہیں سنی اور خلع دے دیا۔
کیا میرا نکاح ہوا تھا یا نہیں؟ کیا یہ خلع ہوئی ہے یا نہیں؟
جبکہ ہم دونوں کی رضامندی سے نکاح ہوا تھا شرعاً۔
ہم دونوں سید نہیں ہیں ،اور ہم دونوں نماز کے پابند ہیں، مالی لحاظ سے ہم دونوں تقریباً برابر ہیں، لڑکی کے والد فی الحال کوئی کام نہیں کرتے ہیں، کرایہ سے گزارہ کرتے ہیں ،اور میں بی، ایس ،این، کا اسٹوڈنٹ ہوں اور پارٹ ٹائم پرفیوم کا کاروبار کرتا ہوں ۔
لڑکی کا پہلا بیان جو ایف، آئی، آر، کو ختم کرنے کے لیے دیا تھا ،وہ منسلک ہے۔
سائل نے دارالافتاء میں مزید وضاحت دی کہ عدالت میں نکاح کے بعد ہم میاں بیوی تقریباً چار دن ساتھ بھی رہے ،ہوٹل وغیرہ پر کھانا بھی کھایا ،عدالت میں میرے خلاف جتنے بھی الزامات لگائے گئے ہیں وہ سب جھوٹ ہیں، میرے پاس سب کے ثبوت موجود ہیں۔
سوال اور اس کے ساتھ منسلکہ بیوی کا دعوٰی اور عدالت کے فیصلے کا مطالعہ کیا گیا ،جن کا حاصل یہ ہے کہ بیوی مدعیہ نےعدالت میں اپنا دعوی داخل کیا،جس میں اس نے مدعی علیہ شوہر پر کچھ الزامات عائد کیے ہیں،جن میں شوہر کا زبردستی بذریعہ عدالت نکاح کرنا اور بیوی کے گھر والوں کے ساتھ بد اخلاقی اور برا سلوک کرنا، بیوی کو بلیک میل کرنا وغیرہ ،اور مدعیہ کاکہنا ہے کہ ان حالات کی وجہ سے مدعٰی علیہ شوہر کے ساتھ رہنا ممکن نہیں،لہذا عدالت اس کے حق میں خلع کی ڈگری جاری کرے۔
مدعیہ کی طرف سے درخواست دائر ہونے کے بعد عدالت نے شوہر کو عدالت میں حاضر ہونے کےلیے بار بار سمن اور نوٹس جاری کیے ، جس پر مدعی علیہ عدالت میں حاضر ہوا اور اپنے اوپر لگائے گئے تمام الزامات کا انکار کیا ،پھر عدالت نے بیوی کے دعویٰ کو بنیاد بناتے ہوئے نفرت کی بنا ء پر خلع کی ڈگری جاری کردی۔
چنانچہ اس فیصلہ کا شرعی حکم یہ ہے کہ یہ فیصلہ شرعی نقطہ ِ نظر سے درست نہیں نہ فسخِ نکاح کے طریقے سے نہ خلع کے طریقے سے ،فسخ نکاح کے طریقے سے اس لیے درست نہیں کہ اس فیصلہ میں عدالت نے محض بیوی کے دعوی کو بنیاد بنایا ہے، جبکہ یہ دعویٰ شرعاً غیر معتبر ہے کیونکہ شرعاً مدعیٰ علیہ کی موجودگی اور انکار کی صورت میں مدعیہ بیوی کو اپنے دعویٰ پر شرعی شہادت یعنی دو مرد یا ایک مرد اور دو عورتیں بطورِ گواہ پیش کرنا ضروری تھا، جو شوہر کے زبردستی نکاح یا شوہر کے ظلم و زیادتی کی تحریری یا زبانی گواہی دیتے، جبکہ بیوی نے شوہر کے انکار کے بعدایسے کوئی گواہ پیش نہیں کیے ۔اور یہ فیصلہ خلع کے طریقے سے ا س لیے معتبر نہیں کہ یہ فیصلہ شوہر کی رضامندی کے بغیر یکطرفہ کیا گیا ہے، جبکہ خلع کے شرعا ً معتبر ہونے کے لیے میاں بیوی کی باہمی رضامندی ضروری ہے، لہٰذا اس فیصلہ سے مدعیٰ علیہ اور اسکی بیوی مدعیہ کا نکاح شرعا ً ختم نہیں ہوا ،اور وہ دونوں شرعاً اب بھی بدستور میاں بیوی ہیں، لہٰذا جب تک مدعیہ کو اسکا شوہر طلاق نہ دے یا دونوں میاں بیوی باہمی رضامندی سے خلع نہ کرلیں اس وقت تک مدعیہ کا شرعا ً دوسری جگہ نکاح درست نہیں، اور اگر وہ شوہر سے طلاق لیے بغیر یا باہمی رضامندی سے خلع لیے بغیر دوسری جگہ نکاح کرلے گی تو وہ نکاح شرعا ً منعقد نہیں ہوگا۔