نکاح

شیعہ لڑکے کا سنی لڑکی سے نکاح کا حکم

فتوی نمبر :
90258
| تاریخ :
2025-12-24
معاملات / احکام نکاح / نکاح

شیعہ لڑکے کا سنی لڑکی سے نکاح کا حکم

میرا نام سید شہزیب الحسن رضوی ہے اور میرا تعلق مسلکِ رضوی سے ہے۔ اپنے عقائد کے بارے میں ،میں یہ وضاحت کرنا چاہتا ہوں۔میں اللہ تعالیٰ کو واحد لاشریک مانتا ہوں، حضرت محمد ﷺ کو اللہ تعالیٰ کا آخری نبی مانتا ہوں اور قرآنِ مجید کو اللہ تعالیٰ کی آخری کتاب مانتا ہوں۔میں حضرت ابوبکر صدیقؓ، حضرت عمر فاروقؓ، حضرت عثمان غنیؓ اور حضرت علیؓ سمیت تمام صحابۂ کرامؓ کی تعظیم و توقیر کو لازم سمجھتا ہوں اور کسی بھی صحابیؓ کی توہین یا گستاخی کو حرام جانتا ہوں۔میں کسی قسم کے شرکیہ یا کفریہ عقائد کا قائل نہیں ہوں اور خود کو مسلمان اور اہلِ قبلہ سمجھتا ہوں۔میں ایلسا مظفر عالم نامی لڑکی سے نکاح کرنا چاہتا ہوں جو دیوبندی مسلک سے تعلق رکھتی ہے۔میرا سوال یہ ہے کہ:مندرجہ بالا عقائد کے ساتھ، کیا میرا نکاح ایلسا مظفر عالم سے شرعاً درست ہے یا نہیں؟ براہِ کرم قرآن و سنت کی روشنی میں واضح رہنمائی فرمائیں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہوکہ نکاح کے جواز کا مدار مسلکی انتساب پرنہیں، بلکہ ایمان اور بنیادی عقائد کی صحت پر ہے، لہذاجب سائل کے بیان کے مطابق وہ درج بالاعقائدکاحامل ہے، تو وہ شرعاً مسلمان اور اہلِ قبلہ ہے۔لہٰذا ایسے مسلمان مرد کا کسی ایسی مسلمان عورت سے نکاح کرنا جو بنیادی عقائدِ اسلامیہ کی پابند ہو، خواہ اس کا تعلق کسی بھی مسلکی پس منظر (جیسے رضوی یا دیوبندی) سے ہو شرعاً درست اور جائز ہے، البتہ باہمی ازدواجی زندگی کے استحکام کے لیے نکاح سے قبل دینی و عملی امور، خاندانی ماحول اور باہمی ہم آہنگی کے حوالے سے مکمل معلومات حاصل کرلی جائے، تویہ زیادہ بہتر ہے ،تاکہ آئندہ کسی نزاع کا اندیشہ نہ رہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی بدائع الصنائع: ومنها أن لا تكون المرأة مشركة إذا كان الرجل مسلما، فلا يجوز للمسلم أن ينكح المشركة؛ لقوله تعالى: {ولا تنكحوا المشركات حتى يؤمن} [البقرة: 221] ، ويجوز أن ينكح الكتابية؛ لقوله عز وجل: {والمحصنات من الذين أوتوا الكتاب من قبلكم} [المائدة: 5] .والفرق أن الأصل أن لا يجوز للمسلم أن ينكح الكافرة؛ لأن ازدواج الكافرة والمخالطة معها مع قيام العداوة الدينية لا يحصل السكن والمودة الذي هو قوام مقاصد النكاح إلا أنه جوز نكاح الكتابية؛ لرجاء إسلامها؛ لأنها آمنت بكتب الأنبياء والرسل في الجملة۔الخ(فصل أن لا تكون المرأة مشركة إذا كان الرجل مسلما، ج: 2، ص: 270، مط: سعیدکراچی)
وفیہ ایضاً: ومنها إسلام الرجل إذا كانت المرأة مسلمة فلا يجوز إنكاح المؤمنة الكافر؛ لقوله تعالى: {ولا تنكحوا المشركين حتى يؤمنوا} [البقرة: 221] (فصل إسلام الرجل إذا كانت المرأة مسلمة، ج: 2، ص: 271، مط: سعیدکراچی)
وفی الفتاویٰ الھندیۃ: (ومنها الديانة) تعتبر الكفاءة في الديانة وهذا قول أبي حنيفة وأبي يوسف - رحمهما الله تعالى - وهو الصحيح، كذا في الهداية فلا يكون الفاسق كفئا للصالحة، كذا في المجمع سواء كان معلن الفسق أو لم يكن، كذا في المحيط وذكر السرخسي أن الصحيح من مذهب أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - أن الكفاءة من حيث الصلاح غير معتبرة،(الباب الخامس في الأكفاء، ج: 1، ص: 291، مط: ماجدیۃ)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد اسلم امین عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 90258کی تصدیق کریں
0     19
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات