کیا فرماتے ہیں علماء کرام مندرجہ ذیل مسئلہ میں کہ مریم اور وحید اللہ آپس میں چچازاد ہیں، دونوں نے ایک دوسرے کی والدہ کا دودھ نہیں پیا ، لیکن ان سے بڑے بہن بھائیوں نے ایک دوسرے کی والدہ کا دودھ پیا ہے، البتہ وحید اللہ اور مریم دونوں نے دادی کا سینہ منھ میں لیا ہے اور سینہ چوستے چوستے بچے سو بھی جاتے تھے لیکن دادی بھی کافی عمر کی تھی یقین نہیں کہ ان کے پستانوں میں دودھ تھا کہ نہیں، تو اب معلوم کرنا ہے کہ کیا وحید اللہ اور مریم کا رشتہ آپس میں جائز ہے کہ نہیں؟
سوال میں ذکر کردہ تفصیل کے مطابق مسماۃ مریم اور مسمی وحید اللہ کے دیگر بہن بھائیوں نے جب ایک دوسرے کی والدہ کا مدتِ رضاعت میں دودھ پیاہے، تو ان کے درمیان حرمت رضاعت ثابت ہوچکی ہے،جس کی وجہ سے ان کا آپس میں نکاح شرعاً درست نہیں ہے۔جبکہ مسماۃ مریم اور مسمی وحیداللہ نے اپنی دادی کی چھاتی اپنے منہ میں لیا اور اس وقت چھاتی سے دودھ نہ آنے کا یقین یا غالب گمان ہو (اور اگر دادی حیات ہو تو ان سے بھی اس بابت یقینی علم ہوسکتاہے) تو صرف چھاتی منہ میں لینے سے حرمتِ رضاعت ثابت نہ ہوگی لہذا مسماۃ مریم اور مسمی وحید اللہ کا آپس میں نکاح درست اور جائز ہے شرعاً اس میں کوئی حرج نہیں۔
کما فی الدر: فلو التقم الحلمة ولم يدر أدخل اللبن في حلقه أم لا لم يحرم لأن في المانع شكا ولوالجية الخ۔
وفی الشامیۃ تحت: (قوله فلو التقم إلخ) تفريع على التقييد بقوله إن علم. وفي القنية: امرأة كانت تعطي ثديها صبية واشتهر ذلك بينهم ثم تقول لم يكن في ثديي لبن حين ألقمتها ثدي ولم يعلم ذلك إلا من جهتها جاز لابنها أن يتزوج بهذه الصبية. اهـ. ط. وفي الفتح: لو أدخلت الحلمة في في الصبي وشكت في الارتضاع لا تثبت الحرمة بالشك ثم قال: والواجب على النساء أن لا يرضعن كل صبي من غير ضرورة، وإذا أرضعن فليحفظن ذلك وليشهرنه ويكتبنه احتياطاً الخ۔ (باب الرضاع، ج: 3، ص: 212، ط: سعید)۔
و فی الھندیۃ: وتحل أخت أخیہ رضاعاً کما تحل نسباً مثل الأخ لأب إذا کانت لہ أخت من أمہ یحل لأخیہ من أبیہ أن یتزجھا کذا فی الکافی الخ۔ (کتاب الرضاع، ج: 1، ص: 343، ط: ماجدیہ)۔
وفی الدر: هو) لغة بفتح وكسر: مص الثدي. وشرعا (مص من ثدي آدمية) ولو بكرا أو ميتة أو آيسة، وألحق بالمص الوجور والسعوط (في وقت مخصوص) هو (حولان ونصف عنده وحولان) فقط (عندهما وهو الأصح) فتح وبه يفتى كما في تصحيح القدوري عن العون، لكن في الجوهرة أنه في الحولين ونصف، ولو بعد الفطام الخ۔ (باب الرضاع، ج: 3، ص: 212، ط: سعید)۔