السلام علیکم کیسے ہیں ؟ حضرت ایک مسئلے کا فتویٰ لینا ہے مسئلہ یہ ہے کہ میں ایک نیپالی لڑکی سے پیار کرتا ہوں اور وہ بھی کرتی ہے ۔ اس تعلق کے چودہ مہینے ہوگئے ہیں میں پاکستان سے ہوں اور وہ لڑکی نیپال سے ہے، پہلے وہ ہندو تھی اب وہ کلمہ پڑھ چکی ہے الحمد للہ ،میں اس سے نکاح کرنا چاہتا ہوں تو یہ چیز شریعت کی نظر میں کیسی ہے ؟ اور اگر میرے گھر والے یہ بولتے ہیں کہ وہ صحیح مسلمان نہیں ہوئی ہے تو صحیح مسلمان ہونے کا طریقہ بھی بتادیں اور اب میرے والدین اس چیز کو لیکر اعتراض کررہے ہیں کہ اس کا بیگ گراؤنڈ نہیں پتہ اس کا خاندان کیسا ہے ؟ وہ نہیں چلے گی ، ہندو تھی پتا نہیں کیا ، کیا کیا ہوگا اور وہ مسلمان ہوکر بھی صحیح نہیں ہے وجہ صرف دنیا کا مسئلہ ہے تو کیا کرنا چاہئے ؟ اور کیا شریعت کی نظر میں یہ صحیح ہے ؟ کیونکہ اس نے اسلام کا مطالعہ کیا ہے ؟ جب اس کا دل راضی ہوا ہے پھر اس نے خود کلمہ پڑھا ہے ۔ استخارہ بھی نکالا تھا وہ الحمد للہ بہتر آیا ہے کیونکہ میں نے بہت علماء سے پتہ کیا ہے سب نے یہی بولا ہے کہ بالکل ٹھیک ہے بسم اللہ کریں لیکن اب آپ لوگ تحریری فتویٰ دے دیں تاکہ اپنے والدین کو سمجھانے میں آسانی ہو اس مسئلے کو تفصیلی حل فرما دیں برائے کرم بہت مہربانی ہوگی۔
صورت مسؤلہ میں اگر واقعۃً مذکورہ لڑکی مسلمان ہو چکی ہو تو سائل کا اس سے نکاح منعقد ہوگا ۔تاہم شریعت میں مباح امور میں والدین کی اطاعت کی بھی تاکید آئی ہے اس لئے سائل یا تو والدین کو راضی کرے یا ان کے مشورے کے مطابق شادی جیسا اہم معاملہ سر انجام دے تاکہ مستقبل میں ان کی دعائیں شامل حال رہیں اور اب تک ایک اجنبی لڑکی سے جو رابطہ رکھا اور بے تکلفی اختیار کیے رکھی ،سائل پر لازم ہے کہ اس پر بصدق دل توبہ و استغفار بھی کرے ۔
كما فى صحيح مسلم: «حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى الْعَنَزِيُّ وَأَبُو مَعْنٍ الرَّقَاشِيُّ وَإِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ. كلهم عَنْ أَبِي عَاصِمٍ. وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى. حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ (يَعْنِي أَبَا عَاصِمٍ) قَالَ: أَخْبَرَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ. قَالَ: حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ، عَنِ ابْنِ شِمَاسَةَ الْمَهْرِيِّ، قَالَ:
حَضَرْنَا عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ وَهُوَ فِي سِيَاقَةِ الْمَوْتِ. فبكى طويلا وحوله وَجْهَهُ إِلَى الْجِدَارِ. فَجَعَلَ ابْنُهُ يَقُولُ: يَا أَبَتَاهُ أَمَا بَشَّرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِكَذَا؟ أَمَا بَشَّرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِكَذَا؟ قَالَ فَأَقْبَلَ بِوَجْهِهِ فَقَالَ: إِنَّ أَفْضَلَ مَا نُعِدُّ شَهَادَةُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ. إِنِّي قَدْ كُنْتُ عَلَى أَطْبَاقٍ ثَلَاثٍ. لَقَدْ رَأَيْتُنِي وَمَا أَحَدٌ أَشَدَّ بُغْضًا لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنِّي. وَلَا أَحَبَّ إِلَيَّ أَنْ أَكُونَ قَدِ اسْتَمْكَنْتُ مِنْهُ فَقَتَلْتُهُ. فَلَوْ مُتُّ عَلَى تِلْكَ الْحَالِ لَكُنْتُ مِنْ أَهْلِ النَّارِ. فَلَمَّا جَعَلَ اللَّهُ الإِسْلَامَ فِي قَلْبِي أَتَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقُلْتُ: ابْسُطْ يَمِينَكَ فَلأُبَايِعْكَ. فَبَسَطَ يمينه. قال فقبضت يدي. قال "مالك يَا عَمْرُو؟ " قَالَ قُلْتُ: أَرَدْتُ أَنْ أَشْتَرِطَ. قَالَ" تَشْتَرِطُ بِمَاذَا؟ " قُلْتُ: أَنْ يُغْفَرَ لِي. قَالَ" أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ الإِسْلَامَ يَهْدِمُ مَا كَانَ قَبْلَهُ؟ وَأَنَّ الْهِجْرَةَ تَهْدِمُ مَا كَانَ قَبْلِهَا؟ وَأَنَّ الْحَجَّ يَهْدِمُ مَا كَانَ قَبْلَهُ ؟ ( باب کون الاسلام یہدم ما قبلہ، ج :1،ص:141،رقم : 121، مط: بشری)
و فى بدائع الصنائع:ومنها أن يكون للزوجين ملة يقران عليها،( كتاب النكاح، فصل فى الشرط أن يكون للزوجين،ج :2 ، ص :270 ، مط: ايچ ایم سعید)