میں ایک لڑکی کے ساتھ تعلق میں ہوں۔ ہم حرام تعلق میں ہونے کا بوجھ محسوس کر رہے ہیں، اور اس وقت ہم اپنے والدین کو نہیں بتا سکتے، کیونکہ وہ ہمیں شادی کی اجازت نہیں دیں گے۔ کیا ہم صرف گواہوں کی موجودگی میں نکاح کر سکتے ہیں؟ تاکہ یہ تعلق حلال ہو جائے اور ہم گناہوں سے بچ سکیں ۔مستقبل میں امید ہے کہ ہم اپنے والدین کو راضی کر لیں گے اور باقاعدہ نکاح بھی کر لیں گے۔
صورتِ مسئولہ میں اولاً :تو سائل کا ایک اجنبی اور نا محرم لڑکی کے ساتھ کسی بھی طرح کا تعلق رکھنا جو شرعا ممنوع ہو، ناجائز اور حرام ہے۔ اس لیے ان دونوں کو سابقہ ناجائز اور غیر شرعی طرز ِعمل پر اللہ کے حضور صدقِ دل سے توبہ و استغفار کرتے ہوئے، فی الفور اس تعلق اور میل جول کو ختم کرنا لازم ہے۔ ورنہ دنیا میں اس کی سزا بھگتنے کے ساتھ ساتھ مواخذہ اخروی سے سبکدوش نہ ہوسکے گی۔ ثانیاً: اگر سائل اور مذکور لڑکی واقعۃ ً آپس میں نکاح کرکے پاک دامنی کے ساتھ زندگی گزارنا چاہتے ہوں، تو اس طرح والدین کے علم میں لائے بغیر نکاح کرنا شرعا عرفا اور اخلاقا درست نہیں ،بلکہ شریف خاندانوں میں اس طرح کا نکاح معیوب سمجھا جاتا ہے ،اور بڑوں کی سرپرستی اور دعاؤں سے خالی ہونے کی وجہ سے پائدار بھی نہیں ہوتا، نیز اگر یہ نکاح غیر کفو میں ہو ،تو یہ سرے سے منعقد ہی نہیں ہوگا۔ لہذا سائل اور مذکور لڑکی کو چاہیئےکہ: محض وقتی جذبات کی وجہ سے اس انتہائی اقدام سے اجتناب کرتے ہوئے اپنے بڑوں کو اعتماد میں لیکر کوئی فیصلہ کریں ۔تاکہ مذکور نکاح پائدار ہونے کے ساتھ دونوں کیلئے کامیاب ازدواجی ذندگی کا ذریعہ بن سکے،اور لوگوں کے سامنے بھی رسوائی سے حفاظت ہوسکے ۔