میری عادت ہے کہ احتلام کے بعد فوراً غسل کرتا ہوں،لیکن کبھی کبھار غسل کے بعد چند قطرے منی کے بغیر لطف کے ٹپک پڑتے ہیں،کیا مجھ پر دوبارہ غسل واجب ہے یا نہیں؟
احتلام کے فوراً بعد غسل کرنے کے بجائے یا تو چند قدم چلا جائے یا پیشاب وغیرہ کیا جائے،تاکہ ہر قسم کی گندگی کا خروج ہوجائے،پس اگر اتنا وقفہ یا مذکورہ عمل اختیار کرنے کے بعد غسل کیا ہو اورپھر بھی کوئی قطرہ نکل جائے تو موجبِ غسل نہ ہوگا،ورنہ دوبارہ غسل لازم ہوگا۔
کما فی الفتاوی الھندیة: لو اغتسل من الجنابة قبل أن يبول أو ينام وصلى ثم خرج بقية المني فعليه أن يغتسل عندهما خلافا لأبي يوسف - رحمه الله تعالى - ولكن لا يعيد تلك الصلاة في قولهم جميعا. كذا في الذخيرة ولو خرج بعد ما بال أو نام أو مشى لا يجب عليه الغسل اتفاقا كذا في التبيين اھ (1/14)۔