السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
میں ایک شرعی مسئلے میں رہنمائی چاہتی ہوں۔
جس شخص سے میں نکاح کرنا چاہتی ہوں ان کی عمر: 42 سال
اور وہ پہلے سے شادی شدہ ہیں۔میں بالغ، عاقل ہوں اور اپنی مکمل رضامندی کے ساتھ ان سے نکاح کرنا چاہتی ہوں۔میرا مقصد صرف حلال طریقے سے زندگی گزارنا ہے۔میرے والد کا انتقال ہو چکا ہے۔میرے باقی گھر والے بغیر کسی شرعی وجہ کے اس نکاح سے انکار کر رہے ہیں اور سخت رکاوٹ پیدا کر رہے ہیں۔
جب والد حیات نہ ہوں، اور باقی گھر والے غیر شرعی طور پر نکاح روک رہے ہوں، تو کیا شرعاً میں اپنی رضامندی، دو مسلم گواہوں اور کسی قاری/مفتی صاحب کی موجودگی میں مذکور شخص سے نکاح کر سکتی ہوں، جبکہ وہ پہلے سے شادی شدہ بھی ہیں؟
براہِ کرم اس مسئلے میں شرعی رہنمائی اور واضح فتویٰ عنایت فرما دیں۔
سائلہ نے اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ سائلہ کا بھائی وغیرہ موجود ہےیا نہیں، اس کے گھر والے اس شخص کے ساتھ سائلہ کی شادی کرنے پر آمادہ نہیں ہو رہے یا وہ فی الوقت ان کی شادی کرناہی نہیں چاہتے نیز مذ کور شخص سائلہ کا کفؤ ہےیا نہیں ؟ تاکہ اس کے مطابق جواب دیا جاتا، تاہم مذکور شخص اگر سائلہ کا کفؤ ( یعنی حسب نسب، پیشہ وغیرہ میں سائلہ کے برابر ی کا) ہو تو اگر چہ سائلہ کا اولیاء کی اجازت و رضامندی کے بغیر ان کے ساتھ شرعی گواہان کی موجودگی میں کیا جانے والا نکا ح شرعا منعقد ہوجائے گا، لیکن اس طرح کیا گیا نکاح (خصوصاً جب شوہر پہلے سے شادی شدہ ہو اور وہ اس نکاح کو ظاہر نہ کرنا چا ہتا ہو )بعد میں بہت سی مشکلات اور پریشانیوں کا باعث بنتا ہے اورگھر والوں کی سرپرستی اور تعاون کے بٖغیر ان مشکلات کا ازالہ ممکن نہیں ہو تا اس لئے اب سائلہ کو چاہیئے کہ وہ کسی بھی طرح اپنے گھر والوں کو اعتماد میں لیکر کوئی اقدام کرے ورنہ ان کی مشاورت کے مطابق کسی مناسب جگہ رشتہ کر نے کو ترجیح دے تاکہ بعد کے مشکلات اور مسائل سے بچا جاسکے ۔
وفي رد المختارولا تجبر البالغة البكر علي النكاح لانقطاع الولاية بابلوغ فان استاذنها هو اي الولي وهو السنة (ج : ٣ ص ٥٨ ناشر : سعيد )
وفيه ايضا وينعقد متلبسا بايجاب من احدهما وقبول من لأخر(ج : ٣ ص :٩)
وفيه ايضا ويندب اعلانه اي اظهاره والضمير راجع الي النكاح بمعني العقد لحديث ترمذي ؛ (اعلنوا النكاح واجعلواه في المساجد و ضربوا عليه با الدف) ( ج؛ ٣ ص ؛ ٨ )
وفیہ ایضا لانہا تجعل عاقدۃ لانتقال عبارت الوکیل الیہا وھی فی المجلس فکا نت مبا شرۃ ضرورۃ ( ج؛ 3 ص: 25 )