نکاح

والد نے پوتے پوتیوں کا نکاح کروادیا اب وہ اس نکاح پر راضی نہیں ہیں

فتوی نمبر :
89287
| تاریخ :
2025-11-29
معاملات / احکام نکاح / نکاح

والد نے پوتے پوتیوں کا نکاح کروادیا اب وہ اس نکاح پر راضی نہیں ہیں

بچپن میں نکاح ہوا تھا جوان ہونے کے بعد لڑکی کراچی آئی اپنی ماں بہنوں کے سامنے یہ اقرار کیا کہ امر میرا شوہر ہے اور مجھے پسند ہے، اور لڑکے نے بھی کہا کہ لڑکی مجھے پسند ہے، اور میری بیوی ہے اس کے بعد وہ وہ مانسہرہ آ گئی اور وہاں جا کے کہا کہ لڑکا مجھے پسند نہیں ماں باپ نے بھڑکایا اب مفتی صاحب مجھے یہ بتائیں کہ اللہ کے حق کے نزدیک یہ نکاح ہے یا نہیں
نوٹ: سائل کے والد نے ان تمام پوتا اور پوتیوں کے رشتے طے کیے اور اگلے دن مولوی صاحب کو بلا کے بیٹھک میں 12سے 15 بندوں کے سامنے جس میں ہم سب بھائی بشمول مذکور بھتیجی اور بہو کے والد کی موجودگی میں سب کا الگ الگ نام لے کر ایجاب قبول کروایا اگلے دن میرے والد نے مجھے منسلک تحریر لکھوائی۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورتِ مسئولہ میں سائل کے والد نے پوتے پوتیوں کے رشتہ کو متعین کرنے کے بعد با قاعدہ اگلے دن نکاح خواں کو بلا کر ، گواہوں کی موجودگی میں اس پوتے اور پوتیوں کے والد کے ذریعہ ایجاب وقبول کرایا ہو، تو شرعاً ان کا یہ نکاح منعقد ہوچکا ہے ، اور اب لڑکی کے فقط یکطرفہ انکار سے یہ نکاح شرعاً ختم نہ ہوگا، نیز وہ دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد نہ ہونگی۔
لیکن اب اگر لڑکی سائل کے بیٹے کے ساتھ آئندہ کی زندگی نہیں گزارنا چاہتی ، جبکہ یہ ناپسندیدگی مستقبل میں بہت سارے مفاسد کا ذریعہ بھی بن سکتی ہے، لہذا سائل اور اس کے لڑکے کو چاہیئے کہ وہ اس معاملہ کو اپنی انا کا مسئلہ بناتے ہوئے اس رشتہ کو برقرار رکھنے کے بجائے طلاق یا خلع کے ذریعہ اسے اس عقد سے آزاد کریں، تاکہ وہ اپنی مستقبل کا فیصلہ کرنے میں آزاد ہوسکے۔

مأخَذُ الفَتوی

وفی الدر: (وللولي) الآتي بيانه (إنكاح الصغير والصغيرة) جبرا (ولو ثيبا) كمعتوه ومجنون شهرا (ولزم النكاح ولو بغبن فاحش) بنقص مهرها وزيادة مهره الخ۔
وفی الشامیۃ: (قوله ولزم النكاح) أي بلا توقف على إجازة أحد وبلا ثبوت خيار في تزويج الأب والجد والمولى وكذا الابن على ما يأتي (قوله ولو بغبن فاحش) هو ما لا يتغابن الناس فيه أي لا يتحملون الغبن فيه احترازا عن الغبن اليسير الخ۔ (کتاب النکاح، ج: 3، ص: 66، ط: سعید)۔
وفی درر الحکام: (للولي ‌إنكاح ‌الصغير ‌والصغيرة، ولو) كانت الصغيرة (ثيبا) خلافا للشافعي، وقد مر (بغبن فاحش) وهو ما لا يتغابن الناس فيه بأن زوج بنته الصغيرة ونقص من مهرها نقصانا فاحشا (أو لغير كفء) بإذن زوج بنته الصغيرة عبدا أو زوج ابنه الصغير أمة (إن كان) أي الولي (أبا أو جدا) أي أب الأب خلافا لهما الخ۔ (باب الولی والکف، ج: 1، 336، ط: دار أحیاء الکتب العربیۃ)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
عبدالعزیز رحیم عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 89287کی تصدیق کریں
0     9
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات